نئی دہلی /بھوپال/(خبر ایجنسیاں/مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں مسلم مخالف شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری‘ بھارتی پولیس کے مسلمانوں کے گھروں پرحملے‘ توڑ پھوڑ، بدترین تشدد کا نشانہ بنایا‘ سامان لوٹ لیا ،پاکستان جاؤ یا قبرستان کی دھمکیاں، بھوپال میں جامعات کے طلبہ کا احتجاج‘ رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ کیخلاف دہشت گرد واپس جاؤ کے نعرے، معروف رائٹراورسماجی کارکن ارون دھتی رائے بھی میدان میں آگئیں ، مسلمانوں ر حملے کی شدید مذمت‘ متنازع قانون شہریت اور نیشنل رجسٹرآف سٹیزنز (این آرسی ) کومسلمانوں ، دلتوں ،اُدیواسیوںاور غریب عوام کے خلاف قراردے دیا۔ تفصیلات کے مطابقبھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے والے پولیس افسران کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔پولیس اہلکار نا صرف گھروں میں گْھس کر توڑ پھوڑ کرتے ہیں بلکہ دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے صرف 2 مقامات ہیں ، پاکستان یا قبرستان۔ اتر پردیش کے علاقے مظفر نگر کے ایک گھر میں کچھ پولیس کی وردی میں جب کہ کچھ افراد سادے لباس میں72 سالہ حاجی حامد حسن کے گھر گھسے جہاں انہوں نے توڑ پھوڑ کی اور نقدی بھی لوٹ لی ۔اس میں بچیوں کی شادی کا سامان بھی شامل تھا‘پولیس والوں نے خواتین سے بھی بدسلوکی کی اور اْن کے بیٹے محمد شاہد کو زدوکوب کیا اور اسے اپنے ساتھ بھی لے گئے جو اب تک پولیس کی تحویل میں ہے۔ادھر ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کی رکن پارلیمان اور مالیگاوں بم دھماکے کی ملزمہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے خلاف بھوپال یونیورسٹی کے طلبہ نے نعرے بازی کی۔ پرگیہ سنگھ ٹھاکر دھرنے پر بیٹھی دو طالبات شریا پانڈے اور مونو شرما سے ملنے کے لیے بھوپال یونیورسٹی پہنچی تھیں، جہاں طلبا نے ان کے خلاف ‘دہشت گرد واپس جاؤکے نعرے لگائے۔پولیس نے نعرے لگانے والے طلبہ کیخلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے، مزید برآں نئی دلی میں خواتین 15 دسمبر سے دھرنا دیے بیٹھی ہیں۔کیرالہ میں فٹ بال میچ کے دوران آزادی کے نعرے لگ گئے، بنارس ہندو یونیورسٹی کے 51 پروفیسرز نے دستخطی مہم شروع کردی۔اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حراستی مراکز موجود نہ ہونے کے بیان پر انہیں جھوٹا قرار دے دیا۔کیرالہ میں مسیحی برادری نے ٹوپیاں اور لڑکیوں نے سروں پر حجاب پہن کر مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔برطانوی نشریاتی ادارے نے بھارت میں حراستی مراکز سے متعلق مودی سرکار کا جھوٹ بے نقاب کردیا۔بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی مودی کے جھوٹ سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا اکاونٹ پر شیئر کردی۔معروف رائٹراورسماجی کارکن اروندھتی رائے نے کہا ہے دبانے کے لیے زبردست طاقت لگے گی، ہم لوگ لاٹھی اورگولی کھانے کے لیے پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی نے اتوارکونئی دلی میںرام لیلا ریلی کے دوران جھوٹ بولا ہے کہ ان کی حکومت نے این آرسی عمل کے بارے میںکبھی کچھ نہیں کہا اور ملک میں کوئی حراستی مرکز نہیں ہے ۔ انہوںنے افسوس ظاہر کیاکہ اترپردیش پولیس مسلمانوں پرحملے کر رہی ہے اوران کا استحصال کیاجارہا ہے ۔
