
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے صوبے ادلب میں شہریوں کی ہلاکتوں پر روس، شام اور ایران کو متنبہ کیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر نے لکھا کہ روس، شام اور ایران ادلب میں ہزاروں شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں یا اس کے درپہ ہیں۔ وہ اس سے باز آ جائیں! ترکی خوںریزی روکنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسدی اور روسی افواج نے شام میں مزاحمت کاروں کے آخری اہم مرکز صوبہ ادلب میں مختلف اہداف کو بمباری کا نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے۔ بشار الاسد نے اس صوبے کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ صوبہ ادلب میں کئی ماہ سے جاری آپریشن کے بعد ترکی، روس اور ایران کے رہنماؤں میں انقرہ میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ادلب میں جاری تنازع کو حل کیا جائے۔ اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زائد شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر وہاں سے نکل جانے پر مجبور ہوئے تھے۔ تاہم اس اتفاق رائے پر سفارتی کوششوں میں سرد مہری آنے کے بعد سے وہاں صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ ادلب میں جاری حالیہ جنگی صورتحال کے نتیجے میں سوا 2 لاکھ سے زائد افراد فرار ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا کہ 12 سے 25 دسمبر کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد ادلب سے فرار ہوئی، جب کہ جنوبی ادلب میں واقع معرۃ النعمان نامی شہر بالکل خالی ہو چکا ہے۔ اس علاقے کو شام میں حزب اختلاف کا آخری گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
