2023تک میں یاد دلاتا رہوں گا کن حالات میں حکومت ملی، بزنس کمیونٹی کو آرڈیننس کے ذریعے نیب قوانین سے آزاد کردیا
بزنس کمیونٹی کو مبارک باد دیتا ہوں ‘سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوگا تو مزید سرمایہ آئے گا‘پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اللہ کا شکر ہے اب روپیہ مستحکم ہوگیا ہے۔ آئندہ سال نوکریوں کا ماحول بنائیں گے، 2023تک میں یاد دلاتا رہوں گا کہ کن حالات میں حکومت ملی، بزنس کمیونٹی کو آرڈیننس کے ذریعے نیب قوانین سے آزاد کردیا، بزنس کمیونٹی کو مبارک باد دیتا ہوں۔ سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوگا تو مزید سرمایہ آئے گا۔انہوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تقریب میں 25 کمپنیوں کو ایوارڈز مل رہے ہیں، پاکستا ن کیلئے ویڑن یہ ہے کہ پاکستان کاقائد اعظم نے قراردادپاکستان میں جو مقصد بتایا تھا وہ ایک ہی ویڑن تھا کہ جو ریاست مدینہ کے اصولوں پر مبنی تھا، دنیا کی پہلی اسلامی ریاست انسانیت اور انصاف کے اصولوں پر کھڑی تھی، دنیا میں تما م خوشحال قومیں ان دواصولوں پر کھڑی ہے، سوئٹزرلینڈ میں چلے جائیں وہاں فلاحی ریاست ملے گی،انصا ف ملے گا۔انہی دواصولوں پر چلنے سے کوئی بھی قوم دنیا کی عظیم قوم بن سکتی ہے۔ ریاست مدینہ انہی دواصولوں پر چلتے ہوئے دنیا کی عظیم قوم بنی ، سات سوسال تک حکمرانی کی۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بہترین پالیسیوں کی بدولت ترقی کی۔دولت تب آئے گی جب حکومت سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقات کو سہولت دے گی۔مشکل حالات میں حکومت ملی ، اس کے باوجود ہم 28پوائنٹس اوپر گئے۔انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو سب سے زیادہ مسئلہ نیب سے تھا،نیب کا کاروباری طبقات پر خوف تھا،کہ نیب کسی سے بھی پوچھ گچھ کرسکتی تھی،بزنس کمیونٹی کو آرڈیننس کے ذریعے نیب قوانین سے آزاد کردیا،اب نیب کا کام صرف پبلک آفس ہولڈرکی اسکروٹنی کرنا ہے۔اس پر بزنس کمیونٹی کو مبارک دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2023تک میں یاد دلاتا رہوں گا کہ پاکستان کو کتنے خسارے کا سامنا تھا، ہمیں سوئیڈن کی معیشت تو نہیں ملی تھی، پی ٹی آئی حکومت کو 2018میں 30ہزار ارب کا قرضہ ملا۔اگلے چار سال تک حکومت کی کارکردگی کو آپ کے سامنے رکھتا رہوں گا۔اللہ کا شکر ہے اب روپیہ مستحکم ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں لوگ منافع کے ذریعے پیسا بنائیں، سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوگا تو مزید سرمایہ آئے گا۔2019استحکام کا سال تھا،2020ترقی کا سال ہوگا۔10ہزار ارب ہم نے قرضوں کی قسطیں واپس کرنا تھیں، جو پچھلی حکومتوں نے لے رکھے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم سرمایہ کاروں کی مدد کریں گے اور چھوٹی صنعتوں کو اٹھائیں گے۔لوگوں کو آئندہ سال نوکریاں دیں گے۔

