English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

رواں دہائی بچوں کیلئے ہلاکت خیز ترین رہی،اقوام متحدہ

شام: اسدی اور روسی افواج کی کارروائی کے باعث ادلب کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے بچے سخت سردی اور بارش میں زندگی گزار رہے ہیں

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ نے موجودہ دہائی کو بچوں کے لیے جان لیوا ترین دہائی قرار دیا ہے، جس میں بچوں کے خلاف ایک لاکھ 70 ہزار شدید نوعیت کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یونیسف کی طرف سے پیر کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کئی لاکھ بچے تنازعات کے شکار خطوں میں تشدد کے انتہائی خوفناک نتائج کے ساتھ نئی دہائی میں داخل ہو رہے ہیں۔بچوں کے بہبود کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق 2010ء سے اب تک بچوں کے خلاف ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد انتہائی شدید خلاف ورزیوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں قتل، زخمی کرنا، یرغمال بنانا، جنسی تشدد اور مسلح گروپوں میں ان کی بھرتی کیے جانے جیسے واقعات شامل ہیں۔یونیسف کے مطابق افغانستان اور مالی سے لے کر شام اور یمن تک میں جاری تنازعات کے سبب کئی لاکھ بچوں کی صحت، تعلیم، مستقبل اور زندگی جیسے معاملات غیر یقینی کا شکار ہیں۔یونیسف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہینیئریٹا فور کا کہنا ہے کہبچوں کے خلاف حملوں کا نا رکنے والا سلسلے جاری ہے، کیوں کہ متحارب فریق بچوں کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق جنگ کے ایک انتہائی بنیادی اصول کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کے خلاف تشدد کے بہت سے واقعات کہیں رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔یونیسف کے مطابق اس وقت جس تعداد میں ممالک تنازعات کا شکار ہیں، وہ گزشتہ 3 دہائیوں کی بلند ترین تعداد ہے۔یونیسف کی طرف سے مزید کہا گیا ہے کہ مسلح تنازعات ہر ایک کے لیے تباہ کن ہوتے ہیں، مگر یہ بچوں کے لیے خاص طور پر انتہائی خوفناک ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے