صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں حکومت اور اس کے معاون سعودی عسکری اتحاد کے خلاف لڑنے والے حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں 6 اور متحدہ عرب امارات میں 3 حساس مقامات کو اپنے عسکری اہداف کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ماہرین نے اس انکشاف کو ایران نواز ملیشیا کی جانب سے بوقت ضرورت آیندہ بھی لڑائی کے لیے تیار رہنے کے اشارے کے طور پر لیا ہے۔ حوثی ملیشیا کے عسکری ترجمان یحییٰ ساریا کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں حملوں کے ایسے اہم اہداف طے کررکھے ہیں جو تمام انتہائی حساس اور ناگزیر اہمیت کے حامل مقامات ہیں۔ ترجمان نے 2019ء کی سرگرمیوں اور آیندہ برس سے متعلق امکانات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کئی ہوائی اڈوں اور تیل کی صنعت کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے کر چکے ہیں اور ان کی نظریں ان دونوں ممالک میں کئی اہم اہداف پر لگی ہوئی ہیں۔ یحییٰ ساریا کا یہ بیان حوثی باغیوں کے ٹیلی وژن المسیرہ سے نشر کیا گیا، جس میں عسکری ترجمان نے دھمکی دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر یمن اور اس کے عوام کے خلاف مزید حملے کیے گئے تو حوثی بھی ان کا بہت مناسب جواب دیتے رہیں گے۔
