English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایکسپریس وے کے متاثرماہی گیروں کے مطالبات تسلیم کیے جائیں ،ناگمان عبدل

القمر

گوادر (نمائندہ جسارت) گوادر ماسٹر پلان میں مقامی آبادی کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ایکسپر یس وے کے منصوبے سے متاثر ہونے والے مقامی ماہی گیروں کے مطالبات پورے نہیں کیے جارہے۔ کلانچی پاڑہ کے مکینوں کو جبری طور پر بے دخل کیا جارہا ہے۔ وادی ڈور کے ای پی زیڈ کے متاثرین تاحال شنوائی کے منتظر ہیں۔ سرکاری رہائشی اسکیموں کے اجرا کی پالیسی مقامی لوگوں کے مفاد میں نہیں۔ مقامی آبادی کے بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے۔ سلیکٹڈ حکومت کی عوام دشمن پالیسی کسی بھی صورت قبول نہیں۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی تحصیل گوادر ناگمان عبدل نے ضلعی صدر فیض نگوری، تحصیل نائب صدر حفیظ جعفر، نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما مجید عبداللہ، سابق کونسلر بلدیہ گوادر سید گوادری اور بی ایس او (پجار) کے سابق مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ولید مجید کے ہمراہ پریس کلب گوادر میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر کے اکثریتی لوگوں کے ذریعے معاش کا انحصار ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہے لیکن ماہی گیروں کے روزگار کو غیر قانونی ٹرالرنگ کا سامنا ہے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مہلک جالوں سے لیس سندھ کے ٹرالر ضلع بھر کے سمندری ممنوعہ علاقوں میں مچھلیوں کے غیر قانونی شکار میں مصروف ہیں اور بعض اوقات یہ ٹرالرز آبادیوں کے قریب ساحل پر نمودار ہوکر اپنا یہ دھندا کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرقانونی ٹرالرنگ کی وجہ سے اورماڑہ سے جیونی تک ماہی گیر اپنے روزگار کے لیے پریشان ہیں۔ صوبائی حکومت صرف طفل تسلیوں کا سہارا لے رہی ہے جبکہ محکمہ فشریز ٹرالرز مافیا کی سرپرستی کر کے ماہی گیروں کے معاشی حقوق پر ڈاکا ڈال رہی ہے۔ گوادر کا نیا ماسٹر پلان بن گیا ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ اس میں قدیم آبادیوں کے بنیادی حقوق کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ کلانچی پاڑہ کے مکین جبری بے دخلی کے خدشے میں مبتلا ہیں اور آئے روز ان کو نوٹس جاری کیے جارہے ہیں۔ ماسٹر پلان میں گوادر کی قدیم آبادیوں کو متبادل رہائش مع بنیادی سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ واضح نہیں کیا گیا ہے۔ وادی ڈھور گوادر کے ای پی زیڈ کے بہت سے متاثرین اب بھی معاوضوں کی عدم ادائیگی اور اپنے جائز مطالبات کے پورے ہونے کے منتظر ہیں، جس کو کئی سال گزر چکے ہیں لیکن وادی ڈھور کے باسی اپنے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپریس وے کے منصوبے سے متاثر ہونے والے مقامی ماہی گیر بریک واٹر اور گزرگاہوں کے منصوبے کی تعمیر کے مطالبے پورا ہونے کا انتظار کررہے ہیں مگر وفاقی اور صوبائی حکومت ماہی گیروں کے مطالبے پر عمل درآمد سے گریزاں ہیں، حکومت کی سرد مہری کی وجہ سے ماہی گیروں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری رہائشی اسکیم کے اجرا کی اطلاعات ہیں اور مبینہ طور پر اس میں الاٹمنٹ کا جو طریقہ کار سامنے آیا ہے وہ یہاں کے مقامی اور بے گھر مستحق لوگوں کے بنیادی حقوق سے روگردانی کا اظہار لگتا ہے۔ ماضی کی طرح چوری چھپے الاٹمنٹ کی گئی تو ہم اس کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ غیر قانو نی ٹرالرنگ کا خاتمہ، ایکسپریس وے کے منصوبے میں بریک واٹر اور گزرگاہوں کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے، کلانچی پاڑہ کے مکینوں کو مالکانہ حقوق فراہم کیے جائیں، وادی ڈھور کے متاثرین کے مطالبات پر عملدرآمد کیا جائے اور سرکاری رہائشی اسکیموں میں شفاف الاٹمنٹ کرکے وہاں زیادہ سے زیادہ مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے بصورت دیگر نیشنل پارٹی مقامی آبادی کے ساتھ کسی بھی حق تلفی اور ناانصافی کو قبول نہیں کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے