کابل ( آن لائن) افغانستان میں طالبان کے حملوں میں کم از کم 23 افغان سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے، طالبان نے شمالی صوبے میں قائم 3 چیک پوسٹوں پر حملے کیے۔ صوبائی پولیس چیف اجمل کے مطابق بلخ میں عسکریت پسندوں نے ایک چوکی پر حملہ کیا، طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں 11 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ صوبائی کونسل کے ممبر افضل حدید نے ہلاکتوں کی تعداد 9 بتائی اور 4 افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا لاپتا 4 پولیس اہلکاروں نے حملے میں طالبان کی مدد کی تھی یا انہیں پکڑ لیا گیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ قندوز میں افغان سیکورٹی فورسز کے کم از کم 9 اور صوبے تخار میں 7 ہلاک ہو گئے۔ تخار کے صوبائی ترجمان کا کہنا تھا کہ تاجکستان کی سرحد سے متصل درقاد میں سیکورٹی چوکی پر حملے میں کم از کم 11 عسکریت پسند مارے گئے۔ واضح رہے کہ 2 روز قبل طالبان نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کے تناظر میں اعلان کیا تھا کہ وہ ملک بھر میں عارضی جنگ بندی پر رضامند ہیں، امن معاہدے کے نتیجے میں واشنگٹن افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے بعد اپنی افواج کو واپس ملک میں بلاسکتا ہے، اس وقت امریکا کے 12 ہزار فوجی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ یہ توقع ہے کہ طالبان سربراہ معاہدے کو منظور کر لیں گے۔ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کی مدت کے بارے میں نہیں بتایا گیا تاہم اطلاعات ہیں کہ یہ 10 روز تک جاری رہ سکتی ہے۔ امریکا اور طالبان کے مابین معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد 2 ہفتوں میں بین الافغان مذاکرات ہونے کی توقع ہے جو اس بات کا تعین کریں گے کہ جنگ کے بعد افغانستان کا منظر نامہ کیسا ہوگا اور طالبان اس میں کیا کردار ادا کریں گے۔
