English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دبانے کے لئے سرکاری ریڈیو کے نیٹ ورک میں اضافہ کررہاہے

بھارت کی پاکستان بارڈر کے ساتھ 88 ریڈیو ٹرانس میٹرز لگانے کی منصوبہ بندی

دہلی,ساوتھ ایشین وائر

بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دبانے کے لئے آل انڈیا ریڈیو کے انفراسٹراکچر کو تیزی سے بڑھاتا اور ترقی دیتا جارہا ہے۔ جس کا اندازہ ان اعدادوشمار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 2017-18 میں آل انڈیا ریڈیو نے ملک میں 52 نئے ٹرانس میٹرز لگائے۔ 2016-17 کے دوران 49 نئے اسٹیشنز قائم کئے۔2018-19میں مزید 11سٹیشنز کا اضافہ ہوا۔ جبکہ وہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ نئے اور جدید طاقتور ٹرانس میٹرز کی تنصیب بھی کر رہا ہے۔
27 مارچ 2012 کوڈھاکہ کے بنگا بندھو انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں دنیا بھر سے ان شخصیات، ممالک اور اداروں کے نمائندوں کو اکٹھا کیا گیاتھا۔ جنہوں نے پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تقریب میں آل انڈیا ریڈیو کو پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے شراکت دار ہونے کے اعتراف میں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے سرکاری ایوارڈ دیا گیا۔
اس وقت پاکستان سے ملحقہ بھارت کی تین ریاستوں پنجاب، راجستھان، گجرات اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں آل انڈیا ریڈیو کے 83 اسٹیشنز اور 105 ٹرانس میٹرز کام کر رہے ہیں۔یہ تعداد آل انڈیا ریڈیو کے تمام اسٹیشنز کا 17.3 اور تمام ٹرانس میٹرز کا 15.4 فیصد ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سب سے توجہ طلب پہلو یہ ہے بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کو دبانے ، آزاد جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر پاکستانی علاقوں میں اپنا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنے سرکاری ریڈیو کے نیٹ ورک میں اضافہ اور اسے مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔
اس وقت مقبوضہ علاقے میں آل انڈیا ریڈیو کے 27 اسٹیشنز اور 57 ٹرانس میٹرز کام کر رہے ہیں۔ بھارت نے آل انڈیا ریڈیو کے لئے مقبوضہ جموں میں جدید DRM ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانس میٹرنصب کیا ہے جبکہ سری نگر میں بھی 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو کاٹرانس میٹرموجود ہے ۔ اسی طرح کارگل میں 200 کلوواٹ پاور کا میڈیم ویو ٹرانس میٹرکام کر رہا ہے۔
نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق اس کے علاوہ 10 کلو واٹ کے6 ٹرانس میٹرز بھی سرگرم عمل ہیں۔جبکہ مقبوضہ جموں کشمیر میں مختلف مقامات پر نئے ایف ایم ٹرانس میٹرز کی تنصیب کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پتنی ٹاپ کے مقام پر 10 کلوواٹ کا ایف ایم ٹرانس میٹرنصب کیا گیا۔ اسکے علاوہ نوشہرہ کے مقام پر 10 کلوواٹ کے نئے ایف ایم ٹرانس میٹرکی بھی تنصیب کی گئی ۔ اودھم پورکے مقام پر بھی 10 کلوواٹ کا نیاایف ایم ٹرانس میٹرلگایا گیا ہے جو 21جنوری سے کام کررہا ہے۔
اس وقت بھارتی پنجاب میں آل انڈیا ریڈیو کے 18 اسٹیشنز اور11 ٹرانسمیٹرزموجود ہیں۔ جن میں میڈیم ویو کے 2 اورایف ایم کے9 ٹرانس میٹرز ہیں۔ پنجاب میںمیڈیم ویوز کے سب سے طاقت ور ٹرانس میٹرز جالندھر میں نصب ہیں۔ جہاں جدید DRM ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا اور میڈیم ویو 200 کلوواٹ کا ٹرانسمیٹرلگایا گیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق راجھستان میں 25 اسٹیشنز اور میڈیم ویو ز کے 8 ،شارٹ ویو کا ایک اور ایف ایم کے 23 ٹرانس میٹرز یعنی مجموعی طور پر 32 ٹرانس میٹرز ہیں۔
اجمیر میں 200 کلوواٹ کا DRM ٹیکنالوجی کا حامل میڈیم ویو ٹرانس میٹراور سورت گڑھ میں بھی اس ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا ٹرانس میٹرنصب گیاہے۔ جبکہ جودھ پور میں 300 کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانس میٹرکا م کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست گجرات میں سرکاری ریڈیو کے 16 اسٹیشنز اور 21 ٹرانس میٹرز کام کر رہے ہیں جن میں 6 میڈیم ویوز اور 15 ایف ایم کے ٹرانس میٹرز ہیں۔گجرات میں راج کوٹ کے مقام پر انڈیا نے سب سے طاقتور1000 کلوواٹ کا DRM ٹیکنالوجی کا حامل میڈیم ویو ٹرانس میٹرکے ساتھ ساتھ اسی ٹیکنالوجی کا حامل 300 کلوواٹ کا ایک اور ٹرانس میٹر بھی نصب کر رکھا ہے۔یوںان انڈین ریڈیو اسٹیشنز کی ایک نمایاں تعداد کو پاکستانی علاقوں میں واضح طورپر سنا جاسکتاہے۔بھارتی پنجاب میں پاکستانی بارڈر کے ساتھ بھی آل انڈیا ریڈیو کے نئے ٹرانس میٹرز لگانے کا کام جاری ہے۔
اس تناظرمیں امرتسر میں گرنڈہ کے مقام پر 20 کلوواٹ کا نیاایف ایم ٹرانس میٹر ایک ہزار فٹ کی بلندی کے حامل انٹینا کے ساتھ نصب کیا ہے۔جو پاکستان کے علاقوں سیالکوٹ، گجرانوالہ اور لاہور میں سنا جا سکتا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس ٹرانس میٹرنے 24ستمبر 2018سے کام شروع کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان بارڈر پر فزلکاکے مقام پر 20 کلو واٹ کا ایف ایم ٹرانسمیٹربھی نصب کیا گیاہے۔جو پاکستان کے علاقوں پاکپتن، حویلی لکھا، بصیر پور، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، کنگن پور، منچن آباد، اللہ آباد، پیال کلاں، چونیاں، پتوکی ، رینالہ خورد اور اوکاڑہ تک پہنچ رکھتا ہے۔ اسی طرح بھارت نے راجھستان میں چوتن ہل کے مقام پر بھی 20 کلو واٹ کا ایف ایم ٹرانس میٹرلگایا ۔
پاکستان کے سائبر جرنلزم کے معروف ماہر محمد ہارون عباس نے بتایا کہ بھارت پاکستانی سرحد کے ساتھ اسٹراٹیجک اہمیت کی حامل لوکیشنز پر88 نئے ٹرانس میٹرز لگانے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے۔
آزاد کشمیر میں پاکستان کے4 ٹرانسمیٹرز کے مقابلے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 83ریڈیو اسٹیشن اور105 ٹرانسمیٹر کام کر رہے ہیں۔
بھارت سرحد کے قریب کے علاقوں میں پاکستانی ایف ایم کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس کا زیادہ حدف نوجوان پاکستانی ہیں کیونکہ ان کے پاس موبائل سیٹ ہیں اور وہ آ سانی سے پروپیگنڈہ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے