English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی، پارلیمان نے لیبیا فوج بھیجنے کی منظوری دے دی

انقرہ: لیبیا فوج بھیجنے کی قرارداد پر پارلیمان میں رائے شماری ہورہی ہے

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کی پارلیمان نے خانہ جنگی کے شکار شمالی افریقا کے ملک لیبیا میں فوج بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس حوالے سے تُرک پارلیمان میں پیش کی گئی اس قرارداد پر جمعرات کے روز رائے شماری ہوئی، جس میں صدر کو لیبیا فوج بھیجنے کا اختیار دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ تُرک پارلیمان کے 325ارکان نے اس قرارداد کی حمایت اور 184نے مخالفت کی۔ اس کی منظوری کے بعد صدر رجب طیب اردوان کو ایک سال کے لیے لیبیا فوج بھیجنے کا اختیار مل گیا ہے اور وہ اس مدت میں توسیع کے بھی مجاز ہوں گے۔ پارلیمان نے فوج بھیجنے کی منظوری لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی مدد اور حمایت کے لیے دی ہے، جو اس وقت ہمسایہ ملک مصر، متحدہ عرب امارات، دیگر کئی عرب ممالک اور روس کی حمایت یافتہ باغی حفتر ملیشیا کے خلاف برسرپیکار ہے۔ لیبیا کے مشرقی حصے پر قابض باغی جنرل خلیفہ حفتر کی ملیشیا دارالحکومت طرابلس پر قبضے کی کوشش کررہی ہے۔ تُرک فوج اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ وزیراعظم فائزسراج کے دستوں کے ساتھ تعینات کی جائے گی۔ تُرک صدر نے چند روز قبل کہا تھا کہ دسمبر میں لیبی وزیراعظم فائز سراج نے ترکی سے فوجی مدد طلب کی ہے۔ اس تناظر میں طرابلس اور انقرہ کے درمیان ایک معاہدے کو بھی حتمی شکل دی گئی تھی۔ مشرقی لیبیا میں سراج کی مخالف حکومت قائم ہے اور وہ ملکی دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ پارلیمان میں رائے شماری کے ایک گھنٹے کے اندر اندر تُرک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، اور لیبیا اور شام کے بحرانوں پر گفتگو کی۔ تُرک صدارتی دفتر کے مطابق تُرک اور امریکی صدور نے دونوں بحرانوں کے سفارتی حل پر زور دیا۔ دوسری جانب تُرک پارلیمان کے اس فیصلے کے فوری بعد مصر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ مصری وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں اس فیصلے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ یاد رہے کہ لیبیا میں دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے باغی ملیشیا پیش قدمی کی کوشش کررہی ہے اور فوج اس حملے کو ناکام بنانے کے لیے مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔ حفتر ملیشیا کو خطے کے کئی ممالک اور کچھ عالمی طاقتوں کی بھرپور فوجی حمایت اور تعاون حاصل ہونے کے باعث وفاقی حکومت نے برادر ملک ترکی کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کیا ہے، اور انقرہ حکومت نے اسی کے تناظر میں فوج بھیجنے کی منظوری لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے