نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست راجستھان کے شہر کوٹا کے ایک اسپتال میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 102 نومولود بچے ہلاک ہو چکے ہیں تاہم سیاسی جماعتیں اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کے بجائے سیاسی فوائد کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے میں مصروف ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کوٹا کے جے کے لون اسپتال میں یکم جنوری کی شب مزید 2 بچوں نے دم توڑ دیا، جس کے بعد 72 گھنٹوں کے دوران 11 بچوں کی موت کے ساتھ گزشتہ ایک ماہ کے دوران مرنے والے بچوں کی تعداد 102 ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے اعداد شمار پر نظر ڈالی جائے تو ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد تقریباً 960 ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اہل خانہ نے حاملہ خواتین کے لیے مقررہ ہدایات پر عمل نہیں کیا اور جب وہ اسپتال پہنچیں تو ان کی حالت پہلے ہی سے کافی نازک تھی۔ بڑی تعداد میں نوزائدہ بچوں کی اموات پر راجستھان میں کانگریس کی زیر قیادت اشوک گہلوت کی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے نشانے پر ہے، تاہم ریاستی حکومت نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بچوں کی اموات پر انتہائی فکر مند دکھائی دیتی ہے اور اس معاملے پر سیاست نہیں کی جانی چاہیے۔ دوسری جانب بھارتی حکمراں اور راجستھان میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے کانگریس کی ریاستی حکومت پر بے حسی کا الزام لگایا ہے۔ رکن پارلیمان لاکیٹ چترجی نے اسپتال کے دورے سے واپسی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کی صور ت حال انتہائی ابتر اور افسوس ناک ہے۔
