عراق کے دارالحکومت بغداد کے ائیرپورٹ پر امریکی راکٹ حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشا پاپولر موبلائزیشن فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
عراقی حکام نے بیان جاری کیا ہے کہ بغداد ائیرپورٹ پر امریکا کی جانب سے داغے گئے تین راکٹوں سے دو اہم گاڑیاں تباہ ہوئیں جس میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور موبلائزیشن فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس موجود تھے۔
پاپولر موبلائزیشن فورس نے ڈپٹی کمانڈر سمیت اپنے 7 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ائیرپورٹ پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹوئٹر پر امریکی پرچم ٹوئٹ کیا گیا۔
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) January 3, 2020
واضح رہے کہ رواں ہفتے امریکا نے عراق میں فضائی حملہ کرتے ہوئے ملیشیا کتائب حزب اللہ کے درجن سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس امریکی حملے کے ردعمل میں سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے بغداد میں موجود امریکی سفارت خانے کا گیھراؤ کرتے ہوئے سفارت خانے کے بیرونی حصے کو شدید نقصان پہنچایا تھا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایرانی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو اس بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔
آیت اللہ خامنہ ای کا ردعمل

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی راکٹ حملے اور قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد انتقام لینے کا اعلان کردیا ہے۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے ردعمل میں امریکا کو تنبیہ کی ہے کہ ایران قاسم سلیمانی کت قتل کا بدلہ ضرور لے گا۔
قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں تین روز کے لیے سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

