امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد حملوں کے خطرات بڑھنے پر اضافی دستے مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنا شروع کردیے۔
ایران کی القدس فورس کے سربراہ کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد خطے میں ایران اور امریکی اتحادیوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، امریکا نے اپنے فوجیوں اور اتحادیوں کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر 3000 اضافی فوجی فوری طور پر مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 3ہزار کے قریب اضافی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجے جارہے ہیں، امریکا اپنے شہریوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔
امریکی حکام نے جنرل سلیمانی کو قتل کرنے کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ایران ایسے حملوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا جس سے امریکی شہریوں کے لیے خطرات بڑھ گئے تھے۔
واضح رہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد کے ائیرپورٹ پر امریکی راکٹ حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پاپولر موبلائزیشن فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

