English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا نے بڑی غلطی کی:مشکل وقت کا انتظار کرے‘ایرانی صدر

بغداد: امریکی حملے میں جاں بحق ایرانی جنرل کی میت نماز جنازہ کے لیے لائی جارہی ہے چھوٹی تصویر میںآیت اللہ علی خامنہ ای مقتول کی اہلیہ سے تعزیت کررہے ہیں

تہران/ واشنگٹن (خبرایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک) بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے‘ ایرانی صدر حسن روحانی نے متنبہ کیا ہے کہ امریکا نے بڑی غلطی کردی ہے‘ اب مشکل وقت کا انتظار کرے‘ جنرل سلیمانی کے قتل پر ردعمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے‘ امریکا کے خلاف کارروائی کا فیصلہ مناسب وقت پر کریں گے‘ جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مقتول جنرل کے گھر پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے اور فتح تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو بڑھانے کا اعلان کیا جبکہ مقتول جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ ہفتے کے روز بغداد میں ادا کردی گئی‘ جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی‘ ان کی میت آج ایران منتقل کی جائے اور انہیں آبائی علاقے کرمان میں سپرد خاک کیا جائے گا، جبکہ ایرانی جنگی طیاروں کی عراق کی سرحد پر پروازیں جاری ہیں‘ ادھر امریکا نے بھی مزید3000 فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز قاسم سلیمانی کی رہائش گاہ پر آکر مقتول کے خاندان سے تعزیت کی ہے، اس موقع پر ایرانی حکومت کے دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔اس موقع پر انہوںنے کہا کہ سلیمانی کی عدم موجودگی ہمیں تلخ بناتی ہے لیکن ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک فتح حاصل اور مجرموں کی زندگیاں مزید تلخ نہیں ہو جاتیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ سلیمانی کو قتل کرنے والے اب اپنے المناک انجام کے لیے تیار رہیں‘ قاسم سلیمانی کا قتل امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو مزید بڑھا دے گا۔ جبکہ ایرانی صدر نے بھی جاں بحق جنرل کے اہلخانہ سے ملاقات کی ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاسداران انقلاب کے جنرل کو مار کر امریکا نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے‘ یہ واضح طور پر ایک دہشت گردی کی کارروائی تھی ‘ ایران عالمی سطح پر امریکا کو قاسم سلیمانی کے قتل کا ذمے دار قرار دینے کے لیے قانونی اقدامات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کے معاملے پر سوئس سفیر نے احمقانہ بیان دیا جس پر انہیں 2 مرتبہ وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔ علاوہ ازیں قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی تہران پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیرخارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق قطر کا اعلیٰ سطحی کا سفارتی عملہ ایران پہنچا، جس کی قیادت قطری وزیر خارجہ کر رہے ہیں۔ دورے کے حوالے سے قطری حکام کی طرف سے بھی ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کے قتل پر ایران امریکا کے خلاف عالمی سطح پر قانونی کارروائی کے لیے اقدامات اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل سلیمانی کے قتل پر ردعمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے‘ امریکا کی بلیک میلنگ اور سازشی مہم سے مغلوب نہیں ہوں گے اور یہ کہ ایران کسی بھی وقت جواب دینے کا حق رکھتا ہے‘ امریکا نے3 سنگین غلطیاں کیں‘ عراق کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی‘ پورے خطے کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی‘ طاقت اور جرائم کے ذریعے پالیسیوں پر پیش رفت دنیا کے لیے ناقابل قبول ہے۔ قبل ازیں جاں بحق ایرانی جنرل قاسم سلیمانی شاہ اور عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس کی نماز جنازہ بغداد میں ادا کردی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور امریکا کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کی‘ ابو مہندس کو عراق میں سپرد خاک کردیا گیا جبکہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی میت ایران لے جائی جائے گی۔ اور (آج) اتوار کو مشہد میں بھی ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی صدر حسن روحانی کی شرکت بھی متوقع ہے جبکہ ان کی تدفین ممکنہ طور پر7 جنوری کو آبائی قصبے کرمان شاہ میں کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے