میگا شاپنگ مالز پر مشینوں کی تنصیب کا کام تیز کیا جائے اور اس کو ملک بھر میں پھیلایا اور آزمایا جائے، ایف بی آر
بورڈ ہیڈ کوارٹرز کو اس کی ہفتہ وار پیش رفت سے آگاہ کیا جائے، تمام چیف کمشنرز کو ہدایات جاری، سست پش رفت پر تشویش کا اظہار
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشیر خزانہ کی طرف سے فیئر ون ریٹیل اسٹورز پر پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) کے لیے سافٹ ویئر مشینوں کی تنصیب کے عمل میں سست روی پر اظہار ناراضی کے بعد ایف بی آر نے تمام چیف کمشنرز کو ہدایت دی ہیں کہ میگا شاپنگ مالز پر مشینوں کی تنصیب کا کام تیز کیا جائے اور بورڈ ہیڈ کوارٹرز کو اس کی ہفتہ وار پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جائے۔ ایف بی آر اسلام آباد کے ریجنل ٹیکس پیئر آفس (آر ٹی او) نے نیوایئر نائٹ کو شاپنگ مالز جن میں ریسٹورنٹ بھی شامل ہیں پی او ایس کی تنصیب کی کامیاب مہم شروع کی، ایف بی آر نے روک تھام کی ٹھان لی جس کی وجہ سے اب فیئرون کے ریٹیلرز بھی شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس پر پی ایس او کی تنصیب پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نمونے کو ملک بھر میں پھیلایا اور آزمایا جائے۔ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو یہ بھی کہا ہے کہ وہ عدم تعمیل کی صورت میں مارکیٹ میں عملدرآمد کے لیے ٹیمیں بھی بھیجیں۔ سسٹم میں شامل ہونے والے ری سیل آئوٹ لیٹس پر ایف بی آر کا لوگو بھی لگایا جائے، ایسے تاجر اور ریٹیلرز جو ان ہدایات کی پابندی نہیں کرتے ان کے خلاف میڈیا مہم شروع کی جائے، انہیں مقررہ تاریخ کے اندر انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے پر بھی مجبور کیا جائے۔ رجسٹریشن پراسس، پی او ایس کی شیرازہ بندی اور اس کے بعد تاجروں کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے ہر آر ٹی او میں ایک کنٹرول روم بنایا جائے، اس ضمن میں کمشنرز روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہیڈ کوارٹرز کو روانہ کریں۔ ایف بی آر نے اب تک میگا اسٹورز میں 4700 کے لگ بھگ پی او ایس سافٹ ویئر لگائے ہیں اس کا ہدف 20 ہزار ہے، ایف بی آر گاہکوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی مختلف تجاویز پر غور کر رہا ہے ان میں ریٹیل شاپ پر پانچ فیصد واپسی، لائلٹی کارڈ یا رائفل اسکیم شامل ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پی او ایس سافٹ ویئر کے لیے ایف بی آر کے اسٹاف کی مناسب تربیت اور ٹاپ کے دکانداروں اور ریٹیلرز کے لیے آگاہی مہم کی ضرورت ہے اس لیے کہ ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ٹیکنالوجیکل حل میں اس نظام کا اہم کردار ہے۔

