اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) پیر کو سینیٹ اجلاس کے دوران ایوان کی رائے سے 7 بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے حوالے کیے جن میں سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی جانب سے پیش کیے گئے پاکستان انجینئرنگ کونسل (ترمیمی) بل 2019ء اور اسلام آباد ممانعت گداگری بل 2019 شامل تھے۔سینیٹر پروفیسر ڈاکٹرمہر تاج روغانی کی جانب سے یونانی، آروویدک ہومیو پیتھک پریکٹیشنرز (ترمیمی) بل 2019ء پیش کیا گیا۔ سینیٹر فاروق حامد نائیک کی جانب سے گارڈینز اینڈ وارڈز (ترمیمی) بل 2019ء اور گرفتار، زیر حراست یا زیر حراست دوران تفتیش افراد کے حقوق بل 2019ء پیش کیے۔ سینیٹر ثمینہ سعید کی جانب سے دماغی کمزوری کاخصوصی اقدامات بل 2019ء پیش کیا گیا۔سینیٹر بہرہ مند خان تنگی کی جانب سے نیشنل ہائی ویز سیفٹی (ترمیمی) بل 2019ء پیش کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے7 بل ایوان کی رائے لینے کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیے۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے چیئرمین سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے قائمہ کمیٹی کی نیا پاکستان ہائوسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل 2019ء پر رپورٹ پیش کی ۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 2 بل محرک کی عدم موجودگی کے باعث ماحولیاتی تبدیلی ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کا بل پاکستان ماحولیاتی تبدیلی (ترمیمی) بل 2019ء کو موخر کر دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر چودھری تنویر کے گھر کی دیواریں گرانے کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوا دیا۔
چیئرمین سینیٹ
