English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قومی اسمبلی :گستاخانہ مواد کی روک تھام کیلیے قرار داد منظور

القمر

اسلام آباد (صباح نیوز) قومی اسمبلی میں پیرکو تحفظ ناموس رسالت کی مشترکہ قرارداد کو اتفاق رائے سے منظورکرلیا گیا۔ ملک میں موجود گستاخانہ مواد پر مبنی کتابوں کو بحق سرکار ضبط اور ذمے داران کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا گیا ہے۔ معاملے کو قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے سپرد کردیا گیا ہے۔ایوان نے انتہائی حساس معاملات پر باہمی قانونی معاونت کا قانون وضع کرنے کا بل بھی کثرت رائے سے منظورکرلیا ۔ اپوزیشن نے بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کی خودمختاری پر حرف آسکتاہے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو قومی اسمبلی میں وزیر مکانات و تعمیرات چودھری طارق بشیر چیمہ نے تحفظ حرمت رسولؐ کی مشترکہ قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حرمت رسولؐ کے تحفظ کے لیے سب کچھ قربان ہے۔ یہ ایوان بیرون ملک یا اندرون ملک گستاخانہ مواد کی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان میں گستاخانہ مواد کی کتابوں کی درآمد، اشاعت فروخت پر پابندی عاید کی جائے۔ قانون سازی کی جائے کہاسلامی نظریاتی کونسل کی منظوری کے بغیر کوئی دینی کتب شائع فروخت مارکیٹ میں نہیں آسکے گی نہ اسے سوشل میڈیا پر ڈالا جاسکے گا۔ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ گستاخانہ مواد پر مبنی کتابوں کو بحق سرکار ضبط کیا جائے۔ گستاخانہ مواد جرم ہے ۔ قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ اسپیکر اسد قیصر نے مزید کارروائی کے لیے اسے قائمہ کمیٹی مذہبی امور کے سپرد کردیا ہے۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں انتہائی حساس معاملات پرباہمی قانونی معاونت کا قانون وضع کرنے کا بل کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا،اپوزیشن نے بل کی سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے پاکستان کی خودمختاری پر حرف آسکتاہے، حکومت نے اپوزیشن کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل میں موثر حفاظتی انتظام کیا گیا ہے، بل بین الاقوامی مالیاتی ٹاسک فورس کی شرائط کی وجہ سے پارلیمنٹ میں لایا گیا ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول زرداری سمیت اپوزیشن کے 83ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا، بل پیش کرنے کی تحریک کو حکمران اتحاد کے 87 ارکان کی حمایت سے منظور کی گئی، بل کے تحت پاکستان اپنے ملک میں کسی بھی سنگین اور بھیانک جرم کی ضرورت پڑنے پرمتعلقہ ملک کو آگا ہ کرسکے گا۔ قیدیوں کا تبادلہ ہوسکے گا، متعلقہ بھیانک جرم کے بارے میں معلومات کا تبادلہ ہوسکے گا۔ اپوزیشن نے اعتراض کیا ہے کہ پاکستان کو مخبری اور جاسوسی پر لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر کوئی دہشت گردی کا معاملہ ہے تو اس کو واضح طورپر قانون میںلکھا جائے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے فوجداری معاملات میں قانونی معاونت کا قانون وضع کرنے کا بل 2019ء پیش کیا۔ اسد قیصر نے بل پر رائے شماری کرائی جبکہ مجاز افسر کے لییگریڈ 20اور جوائنٹ سیکرٹری کی ذمہ داری سے متعلق عبدالقادر پٹیل کی 2شقوں میں ترامیم کو منظورکرلیا گیا۔ بل کو کثرت رائے سے منظور کرکے اب سینیٹ کوبجھوایا جائے گا۔
قومی اسمبلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے