English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نہرو یونیورسٹی پر حملے کیخلاف ملک گیر احتجاج

بھارت/ برطانیہ: نئی دہلی پولیس ہیڈکوارٹرز کے باہر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ سراپا احتجاج ہیں‘ آکسفورڈ میں زیرتعلیم نوجوان واقعے کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں نقاب پوشوں کی طرف سے منصوبہ بندی کے ساتھ سے کیے گئے ایک حملے بعد ملک گیر احتجاج اور مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب لاٹھیوں، ڈنڈوں اور آہنی سلاخوں سے لیس درجنوں نقاب پوش یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہوئے، اور انہوں نے طلبہ اور اساتذہ کو بری طری سے مارا پیٹا۔ اس تشدد میں طلبہ یونین کی صدر اویشی گھوش سمیت کم از کم 34 افراد شدید زخمی ہوئے، جن کا دہلی کے مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ گھوش کے سر پر شدید چوٹیں آئی ہیں، جب کہ کئی سینئر پروفیسر بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں نے گرلز ہاسٹل میں گھس کر طالبات کو زد و کوب کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے اس سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم ابھی تک کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق دائیں بازو کی سخت گیر طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ وشو ہند پریشد سے ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس کی موجودگی میں یہ سب ہوتا رہا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ یونیورسٹی کے ایک طالب علم اور اسٹوڈنٹ یونین کے سابق صدر بالا جی کاکہنا تھا کہ طلبہ فیس میں اضافے کے خلاف گزشتہ 2 ماہ سے احتجاج کر رہے تھے اور حکمراں جماعت بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کو یہ پسند نہیں تھا اور اسی لیے دونوں میں کشیدگی تھی اور بات یہاں تک پہنچی۔ بالا جی نے بتایا کہ اتوار کو دوپہر کے بعد وشو ہند پریشد اور احتجاج کرنے والے طلبہ میں تصادم ہوا تھا۔ شام کو یونین کی صدر، بہت سے طلبہ اور اساتذہ نے اس پُرتشدد رویے کے خلاف ایک پُرامن مارچ شروع کیا اور تبھی وشو ہند پریشد نے باہر کے نقاب پوش غنڈوں کی مدد سے ان پر حملہ کیا۔ بالا جی کے مطابق اس حملے کا ایک منصوبہ تیار کیاگیا تھا جس میں دہلی یونیورسٹی کے وشو ہند پریشد کے طلبہ بھی شامل تھے۔ حکومت نے اس حملے کی تفتیش کا حکم دیا ہے اور دہلی کے گورنر سے طلبہ سے بات چیت شروع کرنے کو کہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض حملہ آوروں کی شناخت ہوئی ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ اس دوران نہرو یونیورسٹی کی ٹیچرز ایسو سی ایشن نے ملک کے صدر کو خط لکھ کر وائس چانسلر ایم جگادیش کمار کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس خط میں لکھا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس تشدد کی پوری طرح سے ذمے دار ہے، اور اس کے ملوث ہوئے بغیر ایسے غنڈوں کا کیمپس میں داخلہ اور پھر کارروائی کے بعد اتنی آسانی سے نکل جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ کانگریس پارٹی کی رہنما پریانکا کا گاندھی نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمی طلبہ و اساتذہ سے اسپتال میں ملاقات کی ہے۔ پارٹی کے سابق صدر راہول گاندھی نے اپنے ایک ٹوئٹ پیغام میں لکھا کہ جے این یو کے طلبہ اور اساتذہ پر نقاب پوش غنڈوں کا ظالمانہ حملہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ ملک پر فسطائیوں کا کنٹرول ہے، جو بہادر طلبہ کی آوازوں سے خوفزدہ ہیں۔ جے این یو میں آج کا تشدد خوف کا عکاس ہے۔ رات کو جے این کی خبریں جیسے ہی ٹی وی پر نشر ہونا شروع ہوئیں، جس میں کئی طلبہ کے سروں سے خون بہ رہا تھا، تو کئی شہروں میں یونیورسٹیوں کے طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور اس کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ دہلی میں دیر رات تک پولیس ہیڈ کوارٹرز کے باہر دھرنا ہوا۔ ممبئی میں لوگ گیٹ وے آف انڈیا کے پاس جمع ہوئے اور رات بھر دھرنے دیے رہے۔ دہلی، کولکتہ، بنگلور، ممبئی، حیدرآباد، لکھنؤ اور بنارس جیسے بیشتر شہروں، ریاست کیرالا اور مغربی بنگال کے بیشتر علاقوں میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جب کہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی طلبہ نے واقعے کے خلاف احتجاج اور طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ جے این یو میں طلبہ اور اساتذہ پر ہونے والے اس تشدد کی ہر جانب سے مذمت کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے