ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں ایک طالبہ کی عصمت دری کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں شریک طلبہ کی تعداد ہزاروں میں بتائی گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ڈیز پی اے کے مطابق ایک طالبہ سے زیادتی کے واقعے پر پیر کے روز ڈھاکا میں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر آئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈھاکا کی ایک یونیورسٹی میں طالبہ کو نامعلوم شخص نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ اتوار کی شام ڈھاکا کے نواحی علاقے کرمیٹولا کے علاقے میں یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ پیش آیا۔ مظاہرین یونیورسٹی کیمپس کی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملزم کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ ڈھاکا پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ طالبہ کے ساتھ زیادتی اتوار کی شام اس وقت کی گئی جب وہ کرمیٹولا کے علاقے میں اپنی سہیلی کے گھر جانے کے لیے یونیورسٹی کی بس سے اتری۔ اسے راستے میں ایک نا معلوم شخص پیچھا کرنے کے بعد زبردستی اپنے ساتھ لے گیا۔ متاثرہ لڑکی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اس افسر کا کہنا تھا کہ مبینہ ملزم طالبہ کو گھسیٹ کر ایک ویران جگہ لے گیا اور پھر اسے زیادتیکا نشانہ بنایا اور وہ اس دوران بے ہوش ہو گئی۔ ہوش میں آنے کے بعد وہ آٹو رکشا پر اپنی سہیلی کے گھر پہنچی اور وہاں سے اسے اسپتال پہنچایا گیا۔ اس کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔
