طارق روڈکے شاپنگ مال سے لاکھوں روپے مالیت کاغیرقانونی کپڑابرآمدکیاگیاتھاجس پردکانداروں نے احتجاج شروع کردیا
کسٹم اہلکاروں اورمارکیٹ کے چوکیداروں میں فائرنگ کاتبادلہ بھی ہوا،برآمدہونیوالاکپڑاکسٹم ویئرہاوس منتقل
کراچی( کرائم رپورٹر) طارق روڈ پر غیر قانونی کپڑا پکڑے جانے پر دکانداروں کا احتجاج کسٹمز کی ٹیم پر حملہ‘ کسٹم اہلکار سامان سے بھرا کنٹینر چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے‘ تمام دن صورتحال کشیدہ رہی۔ بعد ازاں تجارتی تنظیموں کی مداخلت کے بعد احتجاج ختم کردیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں اسمگل شدہ مال بیچنے والوں کے خلاف کسٹمز نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے طارق روڈ کے شاپنگ مال سے لاکھوں روپے مالیت کا غیر قانونی کپڑا برآمد کرلیاہے۔ چھاپے کے بعد کراچی کے علاقے طارق روڈ پر دکانداروں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک کو بند کردیا،کسٹمز حکام کے مطابق خفیہ اطلاع پر طارق روڈ پر واقع شاپنگ مال میں غیر قانونی اسمگل شدہ کپڑے کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا تو وہاں سے لاکھوں روپے مالیت کا اسمگل شدہ کپڑا برآمد کیا۔حکام نے کپڑے کو تحویل میں لینے کے بعد 5 سے زائد ٹرکوں میں لوڈ کرنے کے بعد شاپنگ مال سے کسٹم ہائوسمنتقل کردیا ہے۔کسٹمز حکام کے مطابق چھاپے کے دوران کپڑے کی اسمگلنگ میں ملوث دکانداروں نے ان کی ٹیم پر حملہ کیا اور کارروائی سے روکنے کی بھی کوشش کی، کسٹم اہلکاروں اور مارکیٹ کے چوکیداروں میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔واضح رہے کہ چھاپے میں کسٹمز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے متعدد گاڑیوں کے ہمراہ حصہ لیا۔طارق روڈ پر کسٹم چھاپے کے بعد دکانداروں نے احتجاج کیا اور کسٹم اہلکاروں کی ایک گاڑی کو روک کر نقصان پہنچایا، چھاپے کے خلاف طارق روڈ کو احتجاجا بند کردیا گیا، کسٹم اہلکار سامان کا کنٹینر بھی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔دوسری جانب کراچی تاجر اتحاد کے صدر الیاس میمن کا کہنا تھا کہ کسٹمز حکام رات 3 بجے چھاپا مار کر 6 کنٹینرز لے گئے، تالے توڑ کر مال لے جانا صحیح نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسمگلنگ کا کپڑا 72 چیک پوسٹوں کے باوجود کیسے کراچی آیا، فی بنڈل پیسے کون وصول کر رہا ہے۔

