English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قاسم سلیمانی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت تدفین آج ہوگی

نماز جنازہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امامت میں ادا ‘مقتدیوں کی بڑی تعداد بھی آبدیدہ نظر آئی
فوجی کارروائی کا حکم دینے کیلئے کانگریس کی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں تھی‘مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹ
تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں عراق کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی‘ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت ‘ آج آبائی شہر کرمان میں سپردِ خاک کیا جائے گا‘امریکا کیخلاف شدید نعرے بازی‘عراقی وزارت خارجہ نے جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا گروپ کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المھندس کو حملے میں ہلاک کرنے پرامریکا کیخلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باقاعدہ طور پر شکایت درج کرادی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں فوجی کارروائی کا حکم دینے کے لیے کانگریس کی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں تھی اوراگر انہوں نے ایران کے خلاف حملے کا فیصلہ کیا تو اس حوالے سے ان کا ٹویٹ ہی پیشگی نوٹیفکیش ہو گا‘ ٹرمپ نے عراق کو اپنے ہاں تعینات امریکی فوجیوں کو واپس بھیجنے کی صورت میں پابندیوں کی بھی دھمکی دی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایران میں عراق کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی‘ نماز جنازہ تہران یونیورسٹی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئی۔نماز جنازہ میں ایرانی صدر ، پارلیمنٹ کے سپیکر، عدلیہ کے سربراہ ، علمائے کرام، ایران کے اعلی سیاسی و عسکری حکام و شخصیات اورعوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قاسم سلیمان کی نمازِ جنازہ کے موقع پر آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ مقتدیوں کی بڑی تعداد بھی آبدیدہ نظر آئی۔ جنرل سلیمانی کی میت قم لے جائی جائی گئی جس کے بعد انھیں آج منگل کو ان کے آبائی شہر کرمان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ عراق کی وزارت خارجہ نے امریکا کی جانب سے بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا گروپ کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المھندس کو ہوائی حملے میں مارنے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باقاعدہ طور پر شکایت درج کرائی ہے۔عراق کی پارلیمانی کمیٹی نے قومی سلامتی کو لے کر حکومت سے امریکا کے خلاف بین الاقوامی تنظیموں میں شکایت درج کرانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد عراق کی جانب سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں فوجی کارروائی کا حکم دینے کے لیے کانگریس کی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں ‘اگر انہوں نے ایران کے خلاف حملے کا فیصلہ کیا تو اس حوالے سے ان کا ٹویٹ ہی پیشگی نوٹیفکیشن ہو گا۔ یہ بات انہوں نے کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی کے اس بیان پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہی جس میں نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے عراقی دارالحکومت بغداد ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کے لئے کانگریس کی منظوری نہیں لی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے