یوکرینی طیارے کو مارے گرنے کے ایرانی اعتراف کے بعد یوکرین کے صدر نے تہران حکومت سے حملے کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کے خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کردیا۔
یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تہران حکومت پوری طرح اپنے کیے کو تسلیم کرے اور 176 ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کو معاوضہ فراہم کرے۔
یوکرینی صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرائے اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ تہران حکومت جانی نقصان کا معاوضہ ادا کرے اور سفارتی سطح پر پوری دنیا کے سامنے اپنے جرم کا اقرار کرے۔
خیال رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف نے یوکرین کے مسافر طیارے کو غلطی سے مار گرانے پر معذرت کرلی تھی۔
پس منظر
تہران میں یوکرینی کے مسافر طیارے کی پراسرارتباہی، 176 ہلاک
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) یوکرین کا مسافر طیارہ تہران کے قریب گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں عملے سمیت 176مسافر ہلاک ہوگئے۔یوکرین کے وزیر خارجہ ویدیم پریسٹاکیو نے کہا ہے کہ جہاز میں 82 ایرانی، 63 کنیڈین، جہاز کے عملے سمیت 11 یوکرینی، سویڈن کے 10، افغانستان کے 4جبکہ برطانیہ اور جرمنی کے ،3,3 شہری سوار تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق طیارے نے تہران کے امام خمینی ائر پورٹ سے یوکرین کے دارلحکومت کیف کے لیے اڑان بھری ۔ ریڈار ڈیٹا کے مطابق ٹیک آف کے صرف 2منٹ بعد ہی طیارے کے انجن میں آگ بھڑک اٹھی اور ہنگامی لینڈنگ کی کوشش میں طیارہ زمین پر گر کر تباہ ہوگیا۔
ایران نے حادثے کا شکار ہونے والے یوکرینی طیارے کا بلیک باکس دینے سے ایران نے انکار کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سربراہ سول ایوی ایشن ایران کا کہنا ہے کہ ابھی طے نہیں کیا کہ بلیک باکس کو ’ڈی کوڈ‘ کرنے کے لیے کس ملک کو دے گا۔یوکرین کے وزیراعظم نے 9 جنوری سے ایران کے لیے پروازوں پر پابندی کا اعلان کردیا۔

