زولوجیکل گارڈن مارکیٹ کے 405 متاثرین کے روزگار کا بندوبست ہوگیا جبکہ 2 ماہ کے اندر بقیہ دکانداروں کو بھی کاروبار کیلئے متبادل جگہ دی جائے گی، وسیم اختر کا تقریب سے خطاب
متاثرین کے روزگار کی بحالی کیلئے میئر کراچی کو فکرمند دیکھا، عتیق میر، ہم نے بہت کوشش کی مگر کسی نے ہماری نہیں سنی، میئر صاحب کے پاس گئے تو روزگار کا بندوبست ہوا، آصف شہزاد
کراچی( کامرس رپورٹر) انسداد تجاوزات مہم کے دوران 26 سو تاجر متاثر ہوئے تھے جن میں سے 21 سو کے لیے متبادل جگہ کا انتظام کر لیا گیا ہے، زولوجیکل گارڈن مارکیٹ کے 405 متاثرین کو متبادل جگہ مل گئی جبکہ دو ماہ کے اندر اندر بقیہ دکانداروں کو بھی کاروبار کیلئے متبادل جگہ دی جائے گی،ان متاثرین کی آباد کاری میں میرے ساتھ کسی نے تعاون نہیں کیا بلکہ کے ایم سی اپنے وسائل سے ہی ان متاثرین کی آباد کاری کر رہی ہے۔ متاثرین کوئی بھی زبان بولنے والا ہو، اس شہر میں رہتا ہے تو وہ میرا شہری ہے اور اس کے مسائل پر توجہ دینا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار مئیر کراچی وسیم اختر نے جمعرات کو زولوجیکل گارڈن مارکیٹ کے متاثرین کو متبادل جگہ دینے کے لیے صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں ہونے والی قرعہ اندازی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر تاجر برادری کے رہنما، سٹی کونسل کی کمیٹیوں کے سربراہان اور افسران بھی موجود تھے جبکہ تقریب سے میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، گارڈن مارکیٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری آصف شہزاد، کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر، پارلیمانی لیڈر کے ایم سی کونسل اسلم شاہ آفریدی نے بھی خطاب کیا، جبکہ آل سٹی تاجر اتحاد کے چیئرمین حکیم شاہ ودیگر بھی موجو د تھے ۔ میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ آپریشن کے دن سے ہی میئر کراچی فکر مند تھے کہ متاثرین کو متبادل دیا جائے۔ یہ مشکل فیصلہ تھا کہ بلدیہ کی قیمتی اراضی پر متاثرین کو متبادل دیا جائے۔ مجھے توقع ہے کہ ان کاروباری حضرات کے روز گار میں اضافہ ہو گا۔سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر اسلم آفریدی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ثابت کیا کہ وہ کراچی کے عوام کا درد رکھتی ہے۔ متاثرین کو متبادل دے کر میئر کراچی نے آپ کے حقوق آپ کی دہلیز پر پہنچادیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو باقی رہ گئے ان کو بھی متبادل ملے گا۔ہم عوامی لوگ ہیں اور آپ کے ساتھ رہیں گے۔تاجر رہنما عتیق میر نے کہا کہ روز گار کی بحالی کی تقریبات منعقد ہوں تو خوشی ہوتی ہے۔ میئر کراچی کو اس بات پر فکر مند دیکھا کہ متاثرین کو ایسی جگہ ملے کہ دوبارہ کوئی ان کو بے دخل نہ کرے اسی وجہ سے اس قرعہ اندازی میں تاخیر ہوئی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم میئر کراچی ان تاجروں کو متبادل دینے کے پابند نہیں تھے اور انہوں نے ازخود ان تاجروں کو متبادل دے کر ثابت کیا کہ وہ واقعی اس شہر کے لیڈر ہیں۔گارڈن مارکیٹ ایسوسی ایشن کے رہنما آصف شہزاد نے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی مگر کسی نے ہماری نہیں سنی۔ہم میئر صاحب کے پاس گئے تو ہمارے روز گار کا بندوبست ہو گیا جس کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، بعدازیں میئر کراچی،میٹروپولیٹن کمشنرنے تاجر رہنماؤں کی موجودگی میں قرعہ اندازی کے ذریعہ دکانداروں کے نام نکالے جنہیں متبادل جگہ دکانیں او ردفاتر الاٹ کئے گئے ہیں۔

