نئی دہلی(صباح نیوز)بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ این آر سی، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف ملک گیر مہم جاری ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی کے مختلف علاقوں میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دھرنے، اجتماعات اور مظاہرے کیے گئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سامنے ہر روز یونیورسٹی طلبہ، سماجی کارکن، سول سوسائٹی کے اراکین اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان جمع ہوتے ہیں اور شام تک تقاریر اور نعرے بازی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ خواتین کا دھرنا سردی میں بے انتہا شدت کے باوجود جاری ہے۔جب تک حکومت شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کو واپس نہیں لے لیتی ان کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان۔دوسری جانب ریاست کیرالا کی حکومت نے آئین کی دفعہ 131 کے تحت سی اے اے کی آئینی قانونی حیثیت کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا ہے۔شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف بھارتی عدالت میں مجموعی طور پر60 درخواستیںداخل کرائی جاچکی ہیں لیکن کسی ریاستی حکومت کی طرف سے دائر کی جانے والی یہ پہلی پٹیشن ہے۔دریں اثنا بالی وڈ ہدایت کار اور فلمساز انوراگ کشیپ نے متنازع شہریت کے قانون کے خلاف اپنے ردعمل میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ان کے والد کا برتھ (پیدائشی)سرٹیفکیٹ دکھانے کا مطالبہ کردیا۔انہوں نے بی جے پی حکومت کو نااہل حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ متنازع شہریت کا قانون ان کے نوٹ بندی والے منصوبے جیسا ہے، ان کا کوئی منصوبہ اور کوئی وژن نہیں بس غنڈہ گردی ہے۔
بھارت میں متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج میں شدت
القمر
