English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

(غریب کہاں جائے؟ کیا کھائے؟عوام کو 2 وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے)

10 کلو آٹا 700 روپے میں فروخت ،روٹی بھی مہنگی ،ہوشربا مہنگائی سے شہری بلبلا اٹھے
کراچی ، حیدرآباد اورلاہور سمیت کئی شہروں میں آٹے کی فی کلوقیمت 64روپے سے بڑھا کر 70 روپے کردی
5 مہینوں میں 10 کلو آٹا 250 روپے تک مہنگاہوگیا ‘چکی مالکان کا قیمت میں 6روپے اضافے کا نرخ نامہ جاری
2 وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا دیا ، مہنگائی بڑھنے سے کاروبار کم ہوتے جا رہے ہیں‘ ریلیف کے منتظر شہریوں کی دھائی
کراچی(اسٹاف رپورٹر+ مانیٹرنگ ڈٖیسک)ایک سال میں آٹے کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ ہوگیا۔ کراچی ، حیدرآباد اورلاہور سمیت کئی شہروں میں آٹے کی فی کلوقیمت 64روپے سے بڑھا کر 70 روپے کردی گئی۔اس طرح 10 کلو آٹا 700 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے جب کہ اس سے قبل 10 کلو آٹے کی قیمت 450 روپے تھی یعنی 5 مہینوں میں 10 کلو آٹا 250 روپے تک مہنگا ہوا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے 2 وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا دیا ہے، مہنگائی ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے جبکہ کاروبار کم ہوتے جا رہے ہیں۔چکی مالکان نے قیمت میں 6روپے اضافے کا نرخ نامہ جاری کردیا جس کا فوری طور پراطلاق کردیا گیا۔ اس حوالے سے چکی اونرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے چکی مالکان کو کوئی ریلیف نہیں دیا، دکانوں کے کرائے، بھاری یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے علاوہ مہنگے داموں گندم خرید کر سستا آٹا فروخت کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے، حکومت اگر فلور ملز کی طرح سبسڈی دے گی تو قیمت کم کردیں گے۔اوپن مارکیٹ میں بھی 100 کلو گندم کی بوری 700 روپے تک مہنگی کردی گئی۔ ڈیلرز کے مطابق آٹے کی قیمت میں اضافے کے بعد اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4800 سے بڑھ کر5500روپے تک جاپہنچی جب کہ چکی مالکان کو گندم کی 100کلو بوری5600 روپے تک فروخت ہونے لگی۔گندم سپلائی متاثر ہونے سے آٹابحران کا بھی خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ادھر نان بائیوں نے کمشنر کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے‘ فی روٹی 10روپے کے بجائے 12روپے میں فروخت کرنے لگے۔ہوشربا مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکلنے لگی ہیں،عوام کو 2 وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑ گئے، ریلیف کے منتظر عوام تبدیلی سرکار سے مایوس نظر آتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے 2 وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا دیا ہے، مہنگائی ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے جبکہ کاروبار کم ہوتے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے