اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے وزارت انسانی حقوق کی جانب سے پیش کردہ زینب الرٹ بل میں شامل نقائص کو دورکرکے بل کو مؤثر بناکراس کادائرہ کار اسلام آباد سے بڑھا کر پورے ملک میں لاگو کرنے پر اتفاق کیا ہے ، وزارت قانون نے بھی تائید کردی۔ آئند ہ اجلا س میں ترمیم شدہ بل پیش کرنے کی ہدایت۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدار ت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ زینب الرٹ اور ترمیمی بل میں موجود خامیوں کو دور کر کے بل کو موثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اراکین کمیٹی طے کریں کہ بچوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کو کنٹرول کرنے کے لیے آیا، اس بل کا اطلاق صرف اسلام آباد تک رکھا جائے یا پورے ملک کے لیے قانون بنایا جائے۔ اراکین کمیٹی کی اکثریت کی رائے کے مطابق قانون کا اطلاق پورے ملک تک بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سینیٹر مصطفی نوازکھوکھرنے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم بل ہے اور اسے صرف اسلام آباد کی حد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ بل کو پورے ملک کے لیے لاگو کیا جائے۔ کمیٹی نے اکثریت سے رائے سے اس کی منظوری دی جس کی وزارت قانون نے بھی تائید کردی۔ سینیٹر مصطفی نوازکھوکھر کا کہناتھا کہ اس بل میں سقم موجود ہیں اس سے متاثرین کے بجائے ملزمان کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ تاہم سینیٹر فیصل جاوید اس بات پر بضد رہے کہ اس بل کو جوں کا توں منظور کردیا جائے کیونکہ اس سے قبل قومی اسمبلی کی کمیٹی میں بہت تاخیر ہوچکی ہے۔تاہم چیئرمین کمیٹی سینیٹر مصطفی نوازکھوکھرنے ارکان کی رائے کے بعد اس بل میں موجود نقائص کو دورکرنے اور ایک مفصل بل بناکر پاس کرنے پر اتفاق کیا۔
سینیٹ کمیٹی کا زینب الرٹ بل ملک بھر میں لاگو کرنے پر اتفاق
القمر
