English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

متاثرین آتشزدگی کو 3 مرتبہ پلاٹ دیے گئے

تین ہٹی کی جھگیوں میں بسے افراد کومتعدد مرتبہ خدا کی بستی اور لیاری میں بسانے کی کوشش کی گئی تھی
متاثرین ہر مرتبہ واپس اسی مقام پر آجاتے ہیں، جبکہ معقول رقم بھی فراہم کی گئی تھی
کراچی (کرائم رپورٹر)تین ہٹی پل کے نیجے آتشزدگی کی شکار آبادی کومتعدد مرتبہ اس مقام سے اٹھا کر دوسری جگہوں پر بسانے کی بھی کوشش کی گئی،آبادی میںمقیم افراد کو تین مرتبہ سے زائد خداکی بستی اور لیاری میں پلاٹ دیے جاچکے ہیں، لیاقت آباد سی ون ایریا کے الیاس گوٹھ کے سامنے لیاری ندی کے کنارے 1970کی دہائی میں نہایت معمولی تعداد میں ہندو برادری آبادہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی پہلی مرتبہ 1977میں تیز بارشوں کے بعد ملیر ندی میں طغیانی سے جھونپٹریاں اس کی نذر ہوگئیں تو وہاں کے رہائشیوں کو لیاری میں60گز کے پلاٹ الاٹ کرنے کے ساتھ ان کو بحالی کے لیے معقول رقم بھی ادا کی گئی، لیکن وہ جلد ہی ڈیرھ دو سال کے اندر دھیرے دھیرے واپس اسی مقام پر آگئے ،الیاس گوٹھ کے ایک عمر رسیدہ رہائشی حسین بخش کے مطابق ان نے افراد لیاری میںالاٹ کردہ پلاٹ فروخت کیے، اور ایسا صرف ایک مرتبہ نہیںہوا،بلکہ مزید 2دفعہ مختلف واقعات کے بعدان کو اس مقام سے منتقل کیا گیا اور مالی مددکے ساتھ ساتھ پلاٹ بھی دیے گئے، تاہم وہ ہرمرتبہ وہاں سے واپس اسی مقام پر آجاتے ہیں، جب کہ ہر مرتبہ ان کی تعدا د میں اضافہ ہوجاتاہے، حسیںبخش نے بات چیت کے دوران الیاس گوٹھ کے مزید رہائشی بھی جمع ہوگئے ، ان کے مطابق ہندو برادری کی آڑمیں جرائم پیشہ افراد نے بھی اس آبادی کا رخ کیاہوا ہے ، اور منشیات فروشی ، جواء اور کچی شراب کی فروخت سمیت ہر قسم کا غیر قانونی کام کیا جاتاہے،ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد نہ صرف یہ ندی کے اندر رہتے ہیں بلکہ انہوں نے الیاس گوٹھ کی مستقل آبادی میں لوگوں کے دروازوں کے سامنے بھی اپنی جھونپٹریاں ڈال لی ہیں،جس سے الیاس گوٹھ کے رہایشوںکو شدید مشکلات کا سامناہے، جب ان کو لوگوں کے گھروں کے سامنے جھونپڑی بنانے سے منع کیاجاتاہے تو منشیات مافیا کے کارندے ان کی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے