39 ارب روپے کا منصوبہ محکمہ بلدیات نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت شروع کیا ہے، ملیر ندی پر 38.75 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے تھری لین پر ہوگا
وزیراعلیٰ سندھ نے ملیر ایکسریس وے کی منظوری کو کراچی کے لوگ بالخصوص صنعتکاروں کیلئے ایک تاریخی اور عظیم تحفہ قرار دے دیا، مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کا ٹھیکہ 39 ارب روپے میں چار مختلف کمپنیوں کے کنسورشیم کودینے کا فیصلہ کیا ہے، ملیر ندی پر 38.75 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے تھری لین ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ایکسپریس وے کی منظوری کو کراچی کے لوگوں بالخصوص صنعتکاروں کے لیے ایک تاریخی اور عظیم تحفہ قرار دیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پالیسی بورڈ کے 30 ویں اجلاس میں کیاگیا جس میں چیف سیکرٹری سید ممتاز شاہ، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی، سیکرٹری بلدیات روشن شیخ، سیکرٹری ورکس عمران عطا سومرو، پی پی پی یونٹ کے ایم ڈی خالد شیخ، این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے کا منصوبہ محکمہ بلدیات نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت شروع کیا ہے، اس منصوبے کے حصول کے عمل کو انجام دینے کے لیے تکنیکی اور مالی ایلویشن کمیٹی (ٹی ایف ای سی) تشکیل دی گئی ہے۔ ٹی ایف ای سی نے سنگل اسٹیج پروکیورمنٹ کے عمل کے تحت بڈنگ دستاویزات کی منظوری دے دی۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں 31 جولائی 2019ء کو ایک اشتہار شائع ہوا۔ تین کمپنیوں نے اپنی بڈز فائل کروائیں اور چار کمپنیوں کے کنسورشیم کو ان کی کم بڈز کی وجہ سے کامیاب بولی دہندہ قرار دیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس ملیر ندی کے ساتھ 38.75 کلومیٹر طویل تھری لین ایکسپریس وے ہوگا جو کورنگی کریک ایونیو ڈی ایچ اے قیوم آباد ایکسپریس وے سے شروع ہوگا اور کراچی حیدرآباد موٹر وے (M9) پر اختتام پذیر ہوگا اور یہ ایکسپریس وے تیز رفتار رسائی ممکن بنائے گا جس سے 25 منٹ کے سفر کا دورانیہ کم ہو جائے گا۔ ایکسپریس وے کے چھ انٹر چینجز ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ منصوبے کے دائرہ کار میں ڈیزائن، تعمیر، فنانس، چلانے اور بحالی کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ملیر ندی پر ایکسپریس وے سے ہزاروں مسافروں اور کراچی بندرگاہ، کورنگی انڈسٹریل ایریا، لانڈھی انڈسٹریل ایریا، اسٹیل ملز، پورٹ قاسم اور اس طرح کے دیگر علاقوں کو نیشنل اینڈ سپرہائی ویز کے ذریعے آمدورفت میں آسانی ہوگی۔

