کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں موٹاپے کی وبا نے انتہائی خوفناک شکل اختیار کرلی ہے جہاں پر 20 سال سے زائد عمر کے چار سے پانچ کروڑ افراد موٹاپے کا شکار ہیں، دوسری طرف پاکستانی بچوں میں موٹاپے کی بیماری بڑھتی جارہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2045ء تک پاکستان بچوں میں موٹاپے کے لحاظ سے نویں نمبر پر آجائے گا، بچوں اور بڑوں میں موٹاپے کے نتیجے میں ذیابطیس، بلڈپریشر، دل کی بیماریوں، فالج اور جوڑوں کے ناکارہ ہونے سمیت دیگر بیماریوں سے اموات اور مستقل مذوری میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ کروڑوں لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرسکے، روزانہ ورزش، متوازن غذا اور معدے اور آنتوں کی سرجری کرکے موٹاپے پر قابو پایا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ذیابطیس اور دیگر امراض سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

