ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت ) ٹنڈوالٰہیار میں محکمہ تعلیم 14برسوں میں بچوں کو اسکول بلڈنگ فراہم نہ کر سکی اسکول کے طلبہ سے ہر سال امتحان لیا جا تا ہے اس وقت بھی سرکاری اساتذہ کھلے آسمان تلے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں، ضلعی انتظامیہ منتخب قومی و صوبائی ممبران کے علاوہ بلدیاتی نمائندوں کے لیے بھی لحمہ فکر، علاقہ مکینوں نے حکومت سندھ سمیت ڈپٹی کمشنر،قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران اور ضلعی چیئرمین ،ٹائون چیئرمین اور یوسی چیئرمین ڈسٹر کٹ ایجو کیشن آفیسر تعلقہ ایجوکیشن آفیسر سمیت دیگر بالا حکام کو درخواست دے چکے ہیں لیکن مستقبل کے 50معماروں کا مستقبل نئے پاکستان میں بھی تبدیل نہ ہو سکا ۔ تفصیلات کے مطابق تعلقہ چمبڑ کی یونین کونسل بیگن جر وار کے گوٹھ سلیمان کمہار میں سال 2006ء میں علاقے کے زمیندار نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اسکول کھولنے کے لیے محکمہ تعلیم کو درخواست دی جس پر افسران نے انہیں گوٹھ کے اوطاق میں اسکول کھولنے کی اجازت دے دی جس کے بعد دو سال تک ان کے بھائی نے گوٹھ کے بچوں کو اپنی مدد آپ کے تحت اسکول میں تعلیم دینے کا سلسلہ شر وع کیا اور دو سال گزرنے کے بعد 2008ء میں محکمہ تعلیم نے انہیں سرکاری استاد فراہم کر دیا لیکن آج تک 50بچوں کیلیے اسکول بلڈنگ فراہم نہیں ہو سکی۔ اس سلسلے میں میڈ یا ٹیم نے جب مذکورہ گوٹھ کا دورہ کیا اور حقائق سے آگاہی حاصل کی تو گوٹھ کے سربراہ سلیمان کہمار کے بھائی غلام محمد کہمار نے بتا یا کہ دنیا اکسیویں صدی میں داخل ہو چکی ہے لیکن ہمارا گوٹھ آج بھی 70سالوں کے نظام کے تحت چل رہا ہے اسکو ل کی جگہ ہم نے فراہم کر دی ہے لیکن حکومت ہمارے بچوں کو اسکول بلڈنگ نہیں دے سکی ہے آج ہمارے بچے سر دی ہو یاگر می ہو کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر تے ہیں کتنے بچے سردی اور گر می کے سبب بیمار ہو چکے ہیں اور بلڈنگ نہ ہو نے کے سبب بچوں کے اسکو ل سے نام بھی خارج کر نے پر مجبور ہو رہے ۔استاد تو ہے لیکن بلڈنگ نہیں ہے ،ہر اسکول کا سالانہ امتحان بھی ہو تا ہے اور افسران بھی دورہ کر تے ہیں استاد کی ہر ماہ بائیومیڑک بھی ہو تی ہے اگر کو ئی کام نہیں ہو تا تو وہ بلڈنگ کی تعمیر کا کا م ہے۔ اس نے بتایا کہ ہم نے حکومت سند ھ سمیت ڈپٹی کمشنر ،قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران اور ضلعی چیئرمین ،ٹائون چیئر مین اور یو سی چیئرمین ڈسٹر کٹ ایجو کیشن آفیسر تعلقہ ایجو کیشن آفیسر سمیت دیگر بالا حکام کو درخواست دے چکے ہیں۔ انہوں چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا از خود نوٹس لے کر ہمارے بچوں کے مستقبل کو روشن بنانے میں ہماری مددکریں۔
ٹنڈوالٰہیار،انتظامیہ کی نااہلی، طلبہ کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پرمجبور
القمر
