واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) فلسطین کی مخالفت کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے ساتھ فلسطین اسرائیل متنازع امن منصوبے کا اعلان کردیا۔جسے’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔منصوبے میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رکھنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ منصوبے سے فلسطینی سرزمین د گنی ہو گی لیکن اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے ایسا ہوگا کیسے؟ ٹرمپ کے مطابق مقدس شہر کا ایک چھوٹا سا حصہ فلسطینی ریاست کا کیپٹل ہوگا لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ وہ چھوٹا سا حصہ کہاں ہوگا، بدلے میں امریکی صدر چاہتے ہیں کہ فلسطینی اسرائیل کو بطور یہودی ریاست تسلیم کریں۔پلان کے تحت غزہ کی پٹی میں محصور مہاجرین کی اپنی سرزمین پر واپسی کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لیے بند ہوگا۔امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کی مشترکہ پریس کانفرنس میں عْمان، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔ پریس کانفرنس میں فلسطین کا کوئی نمائندہ مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کا مشرقی علاقہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا، مجوزہ امن منصوبے کے تحت اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کو قانونی قرار دیا جائے گا جبکہ بدلے میں اسرائیل اگلے 4 سال تک نئی بستیاں تعمیر نہیں کرے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھاکہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کے لیے آخری موقع ہے۔ وائٹ ہاؤس نے مجوزہ اسرائیلی اور فلسطینی ریاستوں کے نقشے بھی جاری کردیے۔اسرائیل کی جانب سے امن منصوبے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے امریکی منصوبے کو مسترد کر دیا، حماس نے مشرقی بیت المقدس اسرائیل کے حوالے کرنے کے بیان کو اشتعال انگیز اور ٹرمپ کے منصوبے کو فضول قرار دیا۔فلسطینی صدر محمود عباس نے مشرق وسطیٰ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی دہشت گرد نہیں ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں، ٹرمپ کا پیش کردہ پلان تقسیم کی کوشش ہے، عالمی برادری امریکی صدر کے پیش کردہ پلان کو مسترد کرے۔ایران نے بھی ٹرمپ کے منصوبے کو یکطرفہ اور اسرائیل نواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔ٍ
ٹرمپ نے اسرائیل کو نواز نے کیلیے متنازع امن منصوبے کا اعلان کر دیا
القمر
