برسلز (آن لائن) یورپی پارلیمنٹ میں بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف مذمتی قرارداد پر رائے شماری مؤخر کردی گئی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں یورپی پیپلز پارٹی اور سوشل ڈیمو کریٹ پارٹی سمیت 6 پارلیمانی گروپوں کی طرف سے بھارت کے شہریت قانون (سی اے اے) کے خلاف مذمتی قراردادیں پیش کی گئیں جن پر گرما گرم بحث ہوئی جبکہ مسئلہ کشمیر پر بھی بات چیت کی گئی۔ ان قراردادوں پر ووٹنگ کو یہ کہہ کر مارچ تک مؤخر کر دیا گیا کہ شہریت قانون کا معاملہ اس وقت بھارتی عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے جس کے فیصلے تک اسے مؤخر کیا جاتا ہے۔ قرارداد پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے یورپی رکن پارلیمنٹ شفق محمد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان قراردادوں کو مؤخر کرانے کے لیے بھارت نے سفارتی سطح پر زبردست اور بھرپور لابنگ کی ہے، یورپی ارکان نے بحث کے دوران بھارتی قانون پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کو بے وطن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ گروپ کے رکن جان ہاورڈ نے کہا کہ سی اے اے انتہائی خطرناک سوچ اور امتیازی قانون ہے جس سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ قراردادوں میں مودی حکومت سے متنازع قانون پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال اور درجنوں بے گناہ افراد کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا گیا، مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے ہوئے یورپی یونین ممالک پر تنازع کے حل کے لیے بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا گیا۔
یورپی پارلیمنٹ میں بھارت کے شہریت بل کیخلاف مذمتی قرارداد پررائے شماری مؤخر
القمر
