کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا پہلا میچ 7 فروری سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں 19 سالہ ٹیسٹ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے سری لنکا کے ڈیموتھ کارونارتھنے کوپویلین کی راہ دکھائی تھی۔ شاہین شاہ آفریدی کی یہ وکٹ ہمیشہ منفرد رہے گی کیونکہ 10 سال بعد پاکستان میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران کسی بھی بولر کی جانب سے حاصل کی گئی یہ پہلی وکٹ تھی۔سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ کے تقریباً 2 ماہ بعد اب پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی کو بنگلا دیش اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرنا ہے۔ شاہین شاہ آفریدی یہاں بھی فائنل الیون کا حصہ بننے کے لیے مضبوط امیدوار ہیں اور وہ ایک مرتبہ پھر ہوم گراؤنڈ پر تیز رفتار گیندوں سے حریف کھلاڑیوں پر دھاک بٹھانے کے لیے تیار ہیں۔شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ 2 ماہ قبل راولپنڈی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران تماشائیوں کا شور اس قدر زیادہ تھا کہ ہمیں ٹی ٹوئنٹی میچ کا گمان ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہوم گراؤنڈ اور کراؤڈ سے دور کرکٹ کھیلنے کے باعث انہیں اس جوش و جذبے کی اہمیت کا خوب اندازہ ہے۔اس موقع پر سری لنکا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں 5 وکٹیں حاصل کرنے والے شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ٹیسٹ کیرئیر میں یہ کارنامہ پہلی مرتبہ سرانجام دینے پر انہیں خوشی ہے تاہم سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان کی یہ پرفارمنس ہوم گراؤنڈ پر ہوئی۔شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ جب سری لنکا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں انہوں نے 5 وکٹیں حاصل کیں تو فاسٹ بولر نسیم شاہ بوجھل دل کے ساتھ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ وہ پہلی اننگز میں اچھی بولنگ کے باوجود زیادہ وکٹیں حاصل نہ کرنے پر مایوسی کا شکار ہیں، شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ اس موقع پر انہوں نے نوجوان فاسٹ بولر کی ہمت بندھائی اور انہیں یقین دلایا کہ اچھی بولنگ کا ثمر انہیں جلد ملے گا۔شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ نسیم شاہ اور ان کے درمیان زیادہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کے لیے ایک مثبت رقابت رہتی ہے جو ٹیم اور بولرز دونوں کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔نسیم شاہ نے دوسری اننگز میں سری لنکا کے 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تو شاہین شاہ آفریدی نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ نسیم شاہ میں وکٹیں حاصل کرنے کی بھوک ہے اور مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ ہر طرح کی وکٹ پر طویل اسپل کرنے کے صلاحیت رکھتے ہیں۔ شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ماضی میں وسیم اکرم اور وقار یونس کے درمیان بھی زیادہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کی جنگ رہتی تھی،جس کا فائدہ پاکستان کو ہوا۔
کارکردگی میں بہتری کیلئے بھرپور محنت کرررہا ہوں ،شاہین شاہ آفریدی
القمر
