حکومت ایک طرف ایزی کاروبار کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف کاروبار چلانے نہیں دے رہی ٗ گزشتہ 8ماہ میں کراچی سمیت ملک بھر کا کاروبار سمٹ کر 30 فیصد رہ گیا ہے
ہزاروں دکانداردیوالیہ ہوگئے ٗ صنعت وتجارت سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں ٗ جب لوگوں کے پاس کاروبار ہی نہیں ہوگا تو ٹیکس کہاں سے دیں گے ٗ آل کراچی انجمن تاجران
کراچی( کامرس رپورٹر) 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط کیخلاف کراچی کے تاجروں نے حکومت کیخلاف ایک بار پھر احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ پیر کو آل کراچی انجمن تاجران‘ طارق روڈ ٹریڈر الائنس اور صدر الائنس آف مارکیٹس ایسوسی ایشن کا اجلاس الیاس میمن کی صدارت میں ہوا جس میں ناصر محمود ‘سلیم انڑ‘ رفیق جدون‘ عبدالصمد خان‘ شکیل چائولہ‘ نسیم یوسف‘ شبیر حسین‘ صدیق میمن اور دیگر تاجروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر الیاس میمن نے کہا کہ حکومت ایک طرف ایزی کاروبار کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف کاروبار چلانے نہیں دے رہی ہے۔ شناختی کارڈ کی وجہ سے گزشتہ 8ماہ میں کراچی سمیت ملک بھر کا کاروبار سمٹ کر30 فیصد رہ گیا ہے۔ ہزاروں دکانداردیوالیہ ہوگئے ہیں۔ صنعت و تجارت سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں۔ جب لوگوں کے پاس کاروبار ہی نہیں ہوگا تو ٹیکس کہاں سے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط تاجر برادری کو کسی صورت میں قبول نہیں ہے اور نہ ہم ایف بی آر کے آلہ کار بنیں گے۔ ہم نے شناختی کارڈ کی شرط کیخلاف پہلے بھی احتجاج اور ہڑتالیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھر کے تاجروں نے ہڑتالیں کرکے واضح فیصلہ کردیا کہ شناختی کارڈ کی شرط منظور نہیں ہے تو پھر اسے ختم کرنے کے بجائے تاریخ میں توسیع کرکے واضح فیصلہ کردیا کہ شناختی کارڈ کی شرط منظور نہیں ہے تو پھر اسے ختم کرنے کے بجائے تاریخ میں توسیع کرکے کیوں خوف کی فضا پیدا کی جارہی ہے۔ الیاس میمن نے کہا کہ حکومت من مانی کرنے کے بجائے تاجر برادری کے مطالبات کو تسلیم کرے۔ اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئی ایم ایف کی بات ماننے کے بجائے تاجروں کی بات کو ترجیح دے دوسری صورت میں تاجر برادری دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیا ر کریگی۔

