خلیج فارس کے عرب ممالک بلیک گولڈ پر انحصار کرتے ہیں اور یہ ہی ان کی بڑی معیشت ہے
ان ممالک کے پاس مقروض ہونے سے بچنے کیلئے اصلاحات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، آئی ایم ایف
پیرس( مانیٹرنگ ڈیسک) آئی ایم ایف نے تیل کے مستقبل اور مالی استحکام کے زیر عنوان اپنی رپورٹ میں2034 تک خلیج فارس کے عرب ممالک کے تیل کے ذخائر ختم ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کے عرب ممالک‘ بلیک گولڈ پر شدید انحصار رکھتے ہیں اور ان کے پاس مقروض ہونے سے بچنے کیلئے اقتصادی اصلاحات اور اس میں تیزی لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک یعنی بحرین‘ کویت‘ عمان‘ قطر‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تقریباً ستر سے نوے فیصد سرکاری آمدنی کا ذریعہ خام تیل ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے پیش نظر کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور انرجی کی عالمی منڈیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ نے ممالک کو انرجی کے قابل تجدید ذخائر سے استفادے کی جانب آگے بڑھایا ہے اور اس چیز نے خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک کو مالی چیلنجز سے دوچار کردیا ہے۔ر پورٹ کے مطابق خلیج فارس کے رکن ممالک کا مالی سرمایہ2034 تک مزید تیزی سے کم ہوجائیگا اور انہیں مقروض بنادے گا۔

