کھلے خوردنی تیل کی فروخت غیر قانونی ہے سندھ فوڈ اتھارٹی
جلد ہی بڑے پیمانے پر مضر صحت تیل کی فروخت کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ڈی جی امجد علی لغاری
پورے ملک کیلئے یکساں اسٹینڈر ائزیشن پر عمل پیرا ہیں، کاٹی کی تقریب سے خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل امجد علی لغاری نے کہا ہے کہ کھلے خوردنی تیل کی فروخت غیر قانونی قرار دی جاچکی ہے جس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے گی۔ اندرون سندھ سے کراچی آنے والا ایک لاکھ لیٹر غیر معیاری دودھ ضبط کیا جاچکا ہے۔ رینجرز کی مدد سے ہائی وے پر چیک پوسٹ قائم کی جائیں گی، یہ بات انہوں نے جمعرات کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک کے لیے یکساں اسٹینڈرائزیشن پر عمل پیرا ہیں، سائنٹفک پینل میں صنعتکاروں کو نمائندگی دی جائے گی، اس کے لیے کاٹی کو بھی اپنا فوکل پرسن مقرر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری اولین ترجیح خوردنی اشیا کے معیار کو برقرار رکھنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم بزنس کی اہمیت سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں اس لیے اتھارٹی کی کارروائیوں کو مشتہر نہیں کیا جاتا۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہاکہ فوڈ اتھارٹی کا قیام خوش آئند قدم ہے اس کی مدد سے صحت عامہ کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی، کھلا خوردنی تیل صحت کے لیے انتہائی مضر ہے اور تاحال اس کی فروخت جاری ہے، انہوں نے کہاکہ سیکڑوں ٹن ناقص کھلا تیل بازاروں میں عام دستیاب ہے اس کے خلاف فوری اور سخت کریک ڈائون کرنے کی ضرورت ہے۔

