اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) مر کزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری نے کہا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہو ئی مہنگائی ،منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا ذمے دار تا جر طبقہ نہیں،یہ حکو متی ناقص معاشی پالیسیوں اور غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے ،مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں جاری نام نہاد حکومتی کارروائیاں عوام کی آنکھوں میں دھول جھو نکنے کے مترادف ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارے کے عہدے داران کے اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔انہوں نے کہا حکو مت چینی اور کریانہ کی دکانوں پر چھاپہ مار کاروائیاں بند کر ے ،مہنگائی کے خلاف جاری نام نہاد آپریشن ایک مذاق ہے۔وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم بوکھلاہٹ کا شکارہے جو اپنی ناقص حکمت عملی کا بوجھ تاجروں پر ڈال کر انکی دکانوں پر چھاپے مار رہی ہے ۔کاشف چودھری نے کہاکہ چینی کی اوسط ایکس مل پرائس 76 روپے فی کلوہے۔سفری اخراجات 2 روپے فی کلو جبکہ ہول سیل سے ریٹیلرز تک کا اضافی کرایہ خرچہ 50 پیسے فی کلو ،ہول سیلرز کا نفع 25 پیسے فی کلو اور ریٹیلرز کا نفع 1 روپے فی کلو تک ہے،چینی کی ریٹیل قیمت فروخت 75۔79 روپے تک بنتی ہے جبکہ اس قیمت میں 17 فیصد سیلز ٹیکس بھی شامل ہے، اب حکو مت بتائے چینی کونسے ریٹ پر فروخت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا چینی سستی کرنی ہے تو حکومت 17 فیصد سیلز ٹیکس ختم کردے یا پھر وزیر اعظم عمران خان جرات پیدا کرے اور ملک بھر کی 88 شوگر ملوں کو قومیانے کا اعلان کرے۔جب ملوں سے سستی چینی ملے گی تو قیمت خود بخود نیچے آجائے گی۔انہوں نے کہا حکومت آٹے، دالیں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی وافر اور سستے داموں فراہمی ممکن بنائے تو تاجر سستے داموں اشیا فروخت کرے گا، حکومت کو معاشی ناکامیوں کی ذمے داری تاجروں پر ڈال کر راہ فرار اختیار نہیں کرنے دیں گے، اگر حکومت نے اوچھے ہتھکنڈے ختم نہ کیے تو ملک بھر کی دکانوں پر چینی ،آٹے ،دالوں اور اشیائے ضروریہ کی فروخت بند کردی جائے گی۔
حکو متی ناقص معاشی پالیسیاں غلط فیصلوں کا نتیجہ ہیں‘کاشف چودھری
القمر
