دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے حمایت یافتہ شامی مزاحمت کاروں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں اسدی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مارگرایا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس ہیلی کاپٹر کو ادلب کے شمال مغربی قصبے نیرب میں مارگرایا گیا۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے پائلٹوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اس واقعے کے باعث اسدی فوج 24 گھنٹے کے دوران اپنے دوسرے ہیلی کاپٹر سے محروم ہوئی ہے۔ پیر کے روز اسدی فوج نے ادلب میں گولہ باری کرکے 6 تُرک فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے ردعمل میں تُرک فوج کی حمایت یافتہ شامی مزاحمتی تنظیموں نے منگل کے روز اسدی فوج کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کرتے ہوئے پیش قدمی کی ہے۔ اس شدید حملے کے نتیجے میں اسدی فوج نیرب قصبے سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئی۔ ترکی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسدی فوج کے 115 اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور ان میں سے 101 کو تباہ کردیا ہے۔ اس دوران فوجی چوکیوں، ٹینکوں اور توپ خانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کی زیر ِ قیادت وفد نے روس کے نمایندہ خصوصی برائے شام کی زیرقیادت ایک وفد سے مذاکرات کیے ہیں۔ تُرک ایوان صدر کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدارتی محل میں ہونے والے یہ مذاکرات تقریباً 2 گھنٹے جاری رہے۔ جب کہ تُرک صدر رجب طیب اردوان کی زیر ِ قیادت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی ہوا، جس میں اسدی فوج کے خلاف جاری کارروائی پر غور کیا گیا۔ ادھر نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے اسد انتظامیہ اور روس سے ادلب میں فی الفور حملے روکنے کی اپیل کی ہے۔ اسٹولٹن برگ نے یہ بات برسلز میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ادلب: میزائل لگنے کے بعد اسدی فوج کا ہیلی کاپٹر زمین پر گررہا ہے‘ ملبے کے گرد شامی مزاحمت کار موجود ہیں
شامی مزاحمت کاروں نے فوجی ہیلی کاپٹر مار گرایا
القمر
