واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے بجٹ کا اعلان کردیا، جس میں کچھ منصوبوں کے لیے بھاری کٹوتیاں بھی کی گئی ہیں۔ مجوزہ بجٹ میں فوجی اخراجات کی مد میں اضافہ کرکے محکمہ دفاع کے لیے 705 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں جب کہ محکمہ خارجہ اور غیر ملکی امداد کے لیے فنڈز میں رواں سال کے مقابلے میں 11 ارب 70 کروڑ ڈالر تک کی کٹوتی کی جائے گی، جو جاری اعداد شمار کے مطابق 22 فیصد بنتی ہے۔ مجوزہ منصوبے میں فوج کے لیے ایسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن کے ذریعے سیکورٹی فورسز کو امکانی مستقبل اور جدید دور کی لڑائیوں کے لیے تیار کیا جا سکے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وائٹ ہاؤس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر نے اسرائیل کے سوا دنیا بھر کے ممالک کو دی جانے والی امداد کم کردی ہے جب کہ اسرائیل کو دی جانے والی امداد نہ صرف برقرار رکھی ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔ بجٹ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں پر دباؤ ڈالتا رہے گا کہ وہ خود اپنے دفاع کے پیش نظر مزید رقم ادا کریں۔ دوسری جانب امریکی کانگریس نے مجوزہ بجٹ پر شدید تنقید کی ہے، جس میں فوجی اخراجات میں اضافہ اور تحفظ ماحول کے ادارے ای پی اے کے بجٹ کو کم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسے ایوان نمایندگان سے منظور نہیں ہونے دیں گے۔
امریکا: 48کھرب ڈالر کا بجٹ پیش‘ اسرائیلی امداد برقرار
القمر
