لاہور(خبر ایجنسیاں)نواز شریف کے وکیل نے چودھری شوگر مل کیس میں احتساب عدالت میں نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹس جمع کروا دی۔ عدالت نے نواز شریف کی حاضری سے استثنا ء کی درخواست منظور کرلی۔لاہور کی احتساب عدالت میں چودھری شوگر مل کیس کی سماعت ہوئی جس میں نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت تاحال نا ساز ہے، علاج معالجہ جاری ہے،وہ صحت یاب ہوتے ہی ٹرائل کا سامنا کریں گے۔عدالت میں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کی رپورٹ جمع کروائی جس کے بعد ان کی حاضری سے استثناء کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی گئی۔نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم ایک کلینکل ٹیم کی نگرانی میں ہیں، فروری کے آخری ہفتے میں نواز شریف کے مختلف چیک اپ ہونے ہیں۔امجد پرویز نے بتایا کہ نواز شریف زیر علاج ہونے کے باعث پاکستان کا سفرنہیں کر سکتے۔سماعت میں سابق وزیراعظم کے بھتیجے اور کیس کے ملزم یوسف عباس کو پیش کیا گیا جن کے عدالتی ریمانڈ میں 28 فروری تک توسیع کردی۔یاد رہے کہ 22 نومبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کو چودھری شوگر ملز کیس میں 4 ہفتوں جبکہ مریم نواز کو ریفرنس فائل ہوجانے تک حاضری سے استثناء دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چودھری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔ذرائع نے بتایا تھا کہ چودھری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چودھری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چودھری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں، اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
چودھری شوگر ملز کیس ،نوازشریف کی حاضری سے استشنا کی درخواست منظور
القمر
