واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سینیٹ نے کثرتِ رائے سے ایک قرارداد منظور کرلی ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کے اختیارات میں کمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جمعرات کے روز سینیٹ کے 100 ارکان نے ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ٹم کین کی طرف سے پیش کردہ قرارداد پر ووٹ ڈالے۔ قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف کسی بھی محاذ آرائی کے اختیارات میں کمی لانا تھا۔ قرارداد کے حق میں 55 اور مخالفت میں 45 ووٹ پڑے۔ ری پبلکن جماعت کے 8ارکان نے صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات میں کمی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیے۔ صدر ٹرمپ کے مؤاخذے کی حالیہ کارروائی کے دوران ری پبلکن سینیٹرز اپنی جماعت کے صدر کے ساتھ تھے، تاہم ایران کے خلاف جنگی اختیارات میں کمی کی قرارداد منظور کرانے میں بعض ری پبلکن پارٹی کے ارکان نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا ہے۔ یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ردعملمیں 8 جنوری کو امریکی ائربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ قرارداد کی منظوری کے بعد ری پبلکن پارٹی کے سینیٹرز کا کہنا ہے کہ قرارداد کی منظوری سے غلط پیغام دیا گیا ہے۔ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کی فارن ریلیشن کمیٹی کے چیئرمین جم رش نے کہا کہ ہمیں کمزور کے بجائے مضبوط پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹ میں قرارداد کی منظوری کے بعد سینیٹر ٹم کین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور فوج تعینات کرنے کے کسی بھی فیصلے پر کانگریس کی اہمیت کی عکاسی کی ہے۔
واشنگٹن: ایوانِ بالا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کیے جانے کی قرارداد منظور ہونے کے بعد سینیٹرز صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں
امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف کارروائی کا صدارتی اختیار محدود کردیا
القمر
