English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نعیم الحق کی وفات کا مذاق اڑانے پرعامرلیاقت کا مبشرزیدی پر شدید غصہ

تجھ سے ملنے نہ آیا تو پاکستان کیلئے جینا حرام ہے‘ اہلیہ پر گھٹیا جملے بازی کرنے پر مبشرزیدی کو آڑے ہاتھوں لیا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مرحوم نعیم الحق کی وفات کا مذاق اڑانے پرعامرلیاقت کا مبشرزیدی پر شدید غصہ، تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صحافی مبشر زیدی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنمانعیم الحق کی موت کا مذاق اڑایا۔ انھوں نے ایک تصویرشیئر کی جس میں نعیم الحق اور عمران خان موجود ہیں اور اس تصویر پر لکھا کہ میں تو جارہاہوں آپ بھی سامان باندھ لیں۔اس پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماعامر لیاقت نے جواب دیا کہ ایک داغ صحافت ,نعیم بھائی کی وفات پر علم بکواسیات سے اندھے چراغ جلا رہا ہے ,جل ککڑے سے کہتا ہوں’’مت کہو اپنے آپ کو زیدی، تم تو الٹ پلٹ کے یزید سے بنائے گئے ہو!اصلی اور نسلی زیدی خانوادہ زین العابدین کی جان ہیں جو دشمن کی موت پر بھی جشن نہیں مناتے۔اس پر جواب دیتے ہوئے مبشر زیدی کا کہنا تھا کہ میں تو ادھر اسلام آباد میں بھی بیٹھا ہوں کسی نے کچھ اکھاڑنا ہے کہ اکھاڑلے۔جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عامرلیاقت کا کہنا تھا کہ مجھے بتانا مجھے ملنے آنا ہے۔انھوں نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں ایک باپ کی اولاد ہے تو پتہ بتا مجھے اپنے نام میں موجود اس حسین کی قسم جس کا میں غلام ہوں تجھ سے ملنے نہ آیا تو پاکستان کے لیے جینا حرام ہے۔جواب میں مبشرزیدی نے عامرلیاقت کی اہلیہ پر گھٹیا جملے بازی کی جس پر ڈاکٹرعامرلیاقت نے پھر مبشرزیدی کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ تْو جہنم چھوڑ بس پتہ بتادے ورنہ مان لے تو اسلام آباد میں نہیں ہے۔اور ہاں تیرے جیسا گرا ہوا نہیں جو گھر والوں کو بیچ میں لاؤں تْو نے ثابت کردیا تو زیدی نہیں ہے۔میں نے صرف پتہ پوچھا ہے جو تْو نہیں بتا رہا.. بیویاں کس کی کیسی ہیں یزید پوچھتا تھا شکر کہ تو یزید ہی نکلا۔جواب میں مبشر زیدی نے غلیظ زبان کا استعمال کیا اور اسکا جواب بھی ڈاکٹر عامرلیاقت نے کچھ یوں دیا۔تو ختم کر نا بواسیر اور بتا دے پتہ جانتا ہے نا بار بارکیوں پوچھ رہا ہوں؟لوکیشن ٹریس کرنے والے ٹریس کر ہی لیتے ہیں۔ اسی طرح جواب دیتا رہے،وی پی این دوسرا استعمال کر، ہرچیز مفت کی مت چلااور ہاں اپنے والد ابوجہل کو درمیان میں کیوں لاتا ہے اسے ہم بدر میں فارغ کرچکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے