اسلام آباد(جسارت نیوز) قومی اسمبلی کو وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پی ایس ایل میں 36 انٹرنیشنل کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں‘ قومی کرکٹ ٹیم کا انتخاب سلیکشن کمیٹی کرتی ہے‘ وزارت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے‘ بنگلا دیش اور سری لنکا کے ساتھ سیریز کے دوران اچھے اوپننگ بیٹسمین اور بولرز سامنے آئے ہیں‘ ہم نئے کھلاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں جس سے پاکستان کرکٹ ٹیم مزید بہتر ہوگی۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اقبال محمد علی خان کے سوال کے جواب میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو صرف آئی سی سی یا اس سے متعلقہ اراکین کے منظور کردہ ٹورنامنٹس کھیلنے کے لئے این او سی جاری کئے جارہے ہیں۔ پی سی بی نے اپنے کھلاڑیوں کے لئے حال ہی میں این او سی کے اجراء کی پالیسی پر نظرثانی کی ہے۔ اقبال محمد علی خان کے ضمنی سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری صائمہ ندیم نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر پاکستان میں بہت سے کھلاڑی نہیں آئے تھے۔ حالات ٹھیک ہوئے ہیں تو اس مرتبہ پی ایس ایل میں 36 انٹرنیشنل کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے کھلاڑیوں کو سال میں3 لیگز کھیلنے کی اجازت دیتے ہیں۔ شمیم آراء پنہور کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری صائمہ ندیم نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت پی سی بی طویل المدتی پالیسی کی تشکیل کر رہی ہے۔
ہم نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک آئوٹ آف فارم تھے‘ محمد حفیظ زخمی تھے۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔ اسی طرح بنگلا دیش کے خلاف ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمارے نئے ٹیسٹ کھلاڑی سامنے آئے ہیں۔ سید صلاح الدین کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ حکومت ٹیم کا انتخاب نہیں کرتی۔ تمام ا سپورٹس فیڈریشنز بااختیار ہیں۔ ٹیموں کا انتخاب سلیکشن کمیٹیاں کرتی ہیں۔ ہر کام میرٹ پر ہوتا ہے۔ وزارت کا صرف سپروائزری کردار ہوتا ہے۔ سرفراز احمد اچھے کھلاڑی ہیں ان کا انتخاب کیوں نہیں ہوا اس کا جواب سلیکشن کمیٹی ہی دے سکتی ہے۔
پی ایس ایل میں 36 انٹرنیشنل کھلاڑی اپنے کھیل سے شائقین کو محظوظ کریں گے
القمر
