نئی دہلی (صباح نیوز) بھارت میں متنازعہ شہریت قوانین سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں اس درمیان عدالت عظمیٰ نے شاہین باغ دھرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے مظاہرین سے بات چیت کے لیے ایک مذاکراتی ٹیم مقرر کرتے ہوئے فوری طور پر دھرنے کو ختم کرنے کا حکم جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی کے شاہین باغ میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کے خلاف دائر کی گئیں درخواستوں پر عدالت عظمیٰ میں پیر کو سماعت ہوئی – اس موقع پر عدالت نے کہا کہ جمہوریت سب کے لیے ہے، احتجاجی دھرنے سے پریشان ہونے کی بھی ضرورت نہیں لیکن سوال کیا کہ ٹریفک اورسڑک کو کیسے جام کیا جاسکتا ہے ؟ ۔عدالت عظمیٰ نے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے کے ساتھ ایک اور وکیل سادھنا رام چندرن کو مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے لئے مقرر کردیا ہے جبکہ وجاہت حبیب اللہ اور چندرشیکھر آزاد مذاکرات کاروں کی مدد کریں گے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ اگلی سماعت آئندہ پیر کو ہوگی – عدالت عظمیٰ نے کہا کہ کسی بھی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنا عوام کا حق ہے اس کو بھی نہیں روکا جاسکتا ۔ عدالت نے دہلی کی حکومت ، مرکزی حکومت اور دہلی کی پولیس سے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کے لیے صلاح و مشورہ کریں اور ان سے بات چیت کریں ۔ دوسری جانب شاہین باغ میں بزرگ خواتین نے کہا ہے کہ جو بھی مذاکرات کے لیے آئے گا ہم اس سے مذاکرات کریں گے ۔ سماعت کے دوران وکیل تسنیم احمدی نے کہا کہ اس مظاہرے میں کسی ایک مذہب کے لوگ نہیں بلکہ سبھی مذاہب کے لوگ شامل ہیں جبکہ چندر شیکھر آزاد کے وکیل نے کہا کہ سی اے اے اور این آرسی کے خلاف 5 ہزار مقامات پر مظاہرے کیے جائیں گے اس پر عدالت نے کہا کہ وہ حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے مظاہروں کے خلاف نہیں ہے۔
بھارتی عدالت عظمیٰ کا شاہین باغ کا معاملہ بات چیت سے حل کرنیکا حکم
القمر
