English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جرمنی: دہشت گردی کا نشانہ تارکین وطن تھے‘ حکام

القمر

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن حکام کا کہنا ہے کہ شہر ہناؤ میں دہشت گرد حملے کا نشانہ بننے والے افراد تارکین وطن تھے۔ جائے وقوع پر ایک حقہ بار، ایک گیمنگ پارلر اور ایک کباب ریستوران تھا۔ سب جانتے تھے کہ ان جگہوں پر زیادہ تر تارکین وطن ہی آتے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعہ کے روز ہلاک ہونے والوں کے سوگ میں 50 سے زائد شہروں میں تقاریب کا انعقاد ہوا،جن میں سیاستدانوں، شہریوں اور عیسائی مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔اس موقع پر جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے حملے کو وحشیانہ کارروائی قرار دیا۔ چانسلر انجیلا مرکل نے بھی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز ہناؤ میں ٹوبیاس نامی شخص نے 2 شیشہ بارپر اندھادھند فائرنگ کی تھی۔ بعد ازاں حملہ آور نے اپنی اور اپنی والدہ کی جان بھی لے لی تھی اور ان دونوں کی لاشیں گھر سے برآمد کرلی گئی تھیں۔حملہ آور کی عمر 43برس تھی اور اس کے پاس جرمنی کی شہریت بھی تھی۔ اس نے حملے سے پہلے سوشل میڈیا پر نسلی اقلیتوں اور ثقافتوں کی مکمل نسل کشی کی باتیں کی تھیں۔ فائرنگ سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں 5کی حالت تشویش ناک ہے۔ادھر حکومت نے ملک بھر میں حفاظتی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے اپنے بیا ن میں کہا کہ مساجد، ہوائی اڈوں اور ٹرین اسٹیشنز جیسے حساس مقامات کے ارد گرد حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے دائیں بازو کے شدت پسندوں کی جانب سے ہناؤ کی طرز کے مزید حملوں کا خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے ہناؤ کے واقعے کو دائیں بازو کی دہشت گردی قرار دیا۔
برلن: جرمنی میں فائرنگ کے واقعے کے بعد لوگ دعائیہ تقریب میں شریک ہیں‘ ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے