افغانستان میں امن کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، امریکا اور طالبان نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہوئے پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز کردیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طویل مذاکرات کے بعد امریکا اور طالبان میں ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کے معاہدے کا اطلاق شروع ہوگیا ہے جس سے 18 سال سے جاری جنگ خاتمے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
اگر جنگ بندی پر عملدرآمد کامیاب رہا تو افغان طالبان اور امریکا 29 فروری کو امن معاہدے پر دستخط کریں گے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو واضح کرچکے ہیں کہ ایک ہفتے تک عارضی جنگ بندی کو مانٹیر کیا جائے گا جس کی کامیابی کی صورت میں امن معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔
پومپیو کا کہنا تھا کہ اس اتفاق رائے کی کامیابی پر آگے بڑھنے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ متوقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات بھی بہت جلد شروع ہوجائیں گے۔مائیک پومپیو نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ دہائیوں کے تنازع کے بعد ہم افغانستان بھر میں کارروائیوں میں کمی کے لیے طالبان کے ساتھ رضا مندی کرچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امن کے طویل سفرکی جانب یہ ایک اہم قدم ہے اور میں تمام افغانوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس موقعے کو جانے نہ دیں۔قبل ازیں افغان قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل اور طالبان ذرائع نے کہا تھا کہ امریکا، طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان کارروائیوں میں کمی کا آغاز جلد ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ افغانستان میں 2دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان گزشتہ ایک برس سے مذاکرات جاری ہیں جبکہ درمیان میں تعطل بھی آیا لیکن پھر دوبارہ آغاز ہوا اور اب ایک ہفتے کی جنگ بندی کی کامیابی کی صورت میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کی جنگ بندی سے یہ ظاہر ہوگا کہ طالبان کا اپنے جنگجووں پر کنٹرول ہے اور معاہدے کی کامیابی کے لیے سنجیدہ ہیں جبکہ معاہدے کے بعد واشنگٹن افغانستان سے اپنے فوجیوں کی نصف تعداد کم کرے گا جو اس وقت 12 ہزار سے 13 ہزار تک ہے۔
طالبان نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں فریق معاہدے پر دستخط کے لیے بہتر صورت حال بنائیں گے۔طالبان ذرائع کا کہنا تھا کہ اگر معاہدے پر 29 فروری کو دستخط ہوگئے تو امن معاہدے کو وسیع کرنے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہوں گے جو 10 مارچ کو طے ہوں گے۔امریکا اور طالبان کی جانب سے معاہدے کے لیے رضامندی کے اعلان پر عالمی برادری کی جانب سے خیرمقدمی بیانات سامنے آئے ہیں اور ناٹو کا کہنا تھا کہ معاہدے سے افغانستان میں امن کے لیے راستہ ہموار ہوگا۔رپورٹ کے مطابق روس نے معاہدے کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے یہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کی جانب سے معاہدے کے حوالے سے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ علاوہ ازیںحقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور افغان طالبان کے ڈپٹی کمانڈر سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، اس کی کامیابی کا انحصار امریکا کی طرف سے وعدوں کی تکمیل پر ہے، اگر امریکا نے وعدے پورے کیے تو تب ہی اس پر پورا اعتماد کر سکتے ہیں اور مستقبل میں امریکا کے ساتھ تعاون حتیٰ کہ شراکت داری کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں لکھے اپنے مضمون میں سراج حقانی نے کہا کہ امریکا کے حوالے سے بداعتمادی کے باوجود ہم نے امن کے لیے ایک اور کوشش کرنے کا فیصلہ کیاکیونکہ افغانستان میں ہر کوئی جنگ سے تھک چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ قتل و غارت کوبند ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں اتفاق رائے سے حکومت قائم ہوگی، انٹرا افغان مذاکرات کے دوران کسی بھی فریق کی طرف سے پیشگی شرائط عاید نہیں ہونی چاہییں،ہم دیگر افغان گروپوں سے مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیںتاکہ ایسے سیاسی نظام پر اتفاق ہو سکے جس میں کوئی افغان خود کو باہر خیال نہ کرے۔

