مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیر دفاع نفتالی بینت نے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کامنصوبہ بنالیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع مغربی کنارے کے سیکٹر سی میں فلسطینیوں کے ایک ہزار مکان مسمار کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ اس منصوبہ کا نشانہ بننے والے علاقوں میں 2لاکھ سے زائد فلسطینی آباد ہیں، تاہم یہ علاقے اسرائیلی فوج کی شہری انتظامیہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ فلسطینی 25دیہات میں آباد ہیںاور ان کی اراضی کا رقبہ مجموعی مغربی کنارے کا 60فیصد بنتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کے منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کے وہ تمام مکان مسمار کیے جائیں گے،جو اسرائیلی فوج کی شہری انتظامیہ سے اجازت نامہ لیے بغیر تعمیر کیے گئے، خواہ وہ فلسطینی ان مقامات پر دہائیوں سے آباد ہیں۔ایسے مکانات کی تعداد ایک ہزار بنتی ہے۔ ساتھ ہی ان علاقوں میں نئے مکانات بنانے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی نہ ہی یورپی یونین کو ان علاقوں میں تعمیرات کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب اسرائیلی خاتون وزیر ہاؤسنگ یفعات شاشا بیٹون نے انکشاف کیا ہے حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں 46ہزار گھروں کے منصوبوں کی تیاری کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی امن سمجھوتے پر عمل کے بعد یہ تعداد 3 گنا بڑھا دی جائے گی۔ عبرانی چینل20 نے اسرائیلی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے وزارت کی منصوبہ بندی ٹیموں کو مغربی کنارے میں آبادی کو بڑھانے کے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ادھر ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے مزید 43 یہودکو فلسطین میں آباد کرنے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کر دیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اسرائیلی حکومت ایتھوپیا سے فلاشا نسل کے 398 یہودکو فلسطین میں لا کر آباد کرنے کے پروگرام پر کام کر رہی ہے۔ آنے والوں میں وہ یہودی شامل نہیں جن کے خاندان پہلے ہی فلسطین میں آباد کیے جا چکے ہیں۔
بیت لحم: قابض صہیونی فوج نے ولجہ نامی گاؤں میں فلسطینیوں کے مزید 2 مکان سامان سمیت مسمار کر دیے ہیں‘ بے گھر ہونے والا شہری ملبہ دکھا رہا ہے
اسرائیلی وزیردفاع کا ایک ہزار فلسطینی مکان مسمار کرنے کا منصوبہ
القمر
