کابل/واشنگٹن(خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان کے حملوں میں 26 سیکورٹی اہلکار ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ امریکا نے بھی طالبان مزاحمت کاروں کو جنگی طیاروں سے نشانہ بنایا اور اسے جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔طالبان کی جانب سے صوبہ قنددوز میں3 افغان فوجی چھاؤنی ،ایک پولیس چیک پوسٹ اور صوبہ اروزگان میں بھی ایک پولیس چوکی پردھاوا بولا گیا۔ افغان حکام کے مطابق ان حملوں میں16 افغان فوجی اور10پولیس اہلکارمارے گئے ہیں ۔ ان کارروائیوں کے بعد طالبان اپنے ہمراہ افغان فوج کا اسلحہ بھی گئے جب کہ طالبان نے 10 افغان اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔طالبان کے یہ حملے امریکا کے ساتھ امن ڈیل طے ہونے کے 3ہی دن بعد کیے گئے ہیں۔ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد گزشتہ روز ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے انٹرا افغان مذاکرات سے قبل سیکورٹی فورسز پر حملے جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا تاہم امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے سے گریز کا اعلان کیا تھا۔طالبان کے ترجمان کے مطابق ایسے حملے اْس وقت تک جاری رکھے جائیں گے جب تک انٹرا افغان مذاکرات شروع کرنے کا کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا۔دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فورسز نے صوبے ہلمند میں طالبان مزاحمت کاروں کو نشانہ بنایا ہے جوافغان سیکورٹی فورسز کو بلا ضرورت نشانہ بنانے میں ملوث تھے۔ پینٹاگون کا مزید کہنا تھا کہ طالبان افغانستان میں غیر ضروری حملوں سے گریز کریں۔امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے فضائی حملوں کو جوابی اور دفاعی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے جنوبی افغان صوبے ہلمند کے ضلع نہر السراج میں افغان فورسز کی مدد میں کیے گئے۔ امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق منگل 3مارچ کو طالبان نے اس علاقے میں افغان فوجی دستوں پر 43مرتبہ وقفے وقفے سے مختلف مقامات پر حملے کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان امن معاہدے کی پاسداری کریں، ضرورت پڑنے پر شراکت داروںکا دفاع کریں گے،ہم پر افغان فورسز کے دفاع کی ذمے داری بھی عاید ہوتی ہے ،طالبان عوام کی امن کی خواہش کو نظرانداز کررہے ہیں۔
طالبان کے حملے‘ 26افغان اہلکار ہلاک‘امریکا کی جوابی کارروائی
القمر
