English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی کا شام میں جنگ بندی کا اعلان

ماسکو: ترک صدر رجب طیب اردوان نے روسی صدر پیوٹن سے ملاقات میں شام کےعلاقے ادلب میں جنگ بندی کا اعلان کردیا۔

ترک میڈیا کے مطابق ترک صدر طیب اردوان اور روسی منصب ولادیمر پیوٹن کے درمیان روس کےدارالحکومت ماسکو میں طویل ملاقات ہوئی جو6 گھنٹے تک جاری رہی۔ملاقات کے  بعد دونوں سربراہان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ادلب میں سیز فائر کا اعلان کیا۔

طیب اردوان نے ساتھ ہی شامی حکومت کو خبردار کیا کہ ترکی نے ادلب میں شامی فوج کو پسپا کرنے کیلئےاپنے ہزاروں فوجی بھیجے ہیں جو خاموش نہیں رہیں گے،شامی حکومت نے اگر ترکی کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو ترکی ان حملوں کو بھر پور جواب دینے کا حق محفوظ  رکھتا ہے۔

 ترک صدر نے کہا کہ ترکی شامی مہاجرین کو باعزت طریقے سے ان کےگھر بھیجے گا، شامی حکومت نے 4 ملین  افراد کودہشتگرد قرار دےکر ان پر بمباری کرے اس کو ہرگز قبول نہیں کیاجاسکتا۔ اسد انتظامیہ سے راہ فرار اختیار کرنے والے 1.5 ملین  افراد ترکی کی سرحدوں کے قریب موجود ہیں اور ترکی اس خطرے کے پیش نظر خاموشی اختیار نہیں کرسکتا۔

ترک صدر اردوان نے مزید کہا کہ 2018 کے سوچی معاہدے کو کو ناکام بنانے کی ذمہ داری اسدا انتظامیہ پر عائد ہوتی ہےکیونکہ شامی انتظامیہ ہی  ادلیب میں تناؤ، جارحیت اور علاقائی استحکام کو نشانہ بنانے کی ذمہ دار ہے۔ہمارے فوجیوں کو نشانہ بناتے ہوئے اسد انتظامیہ  کی جارحیت کے افسوسناک واقعات کے بعد ادلب میں  اب نیا اسٹیٹس قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پواٹن نے کہا کہ ہم اپنے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر ہمیشہ اہم مواقع پرسمجھوتہ کرنے کے اہل تھےاور اب بھی ایسا کرنے میں اور  مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ صدر اردوان کے ساتھ مل کر عام شہریوں کی اذیت کو ختم کریں گے، جنگ بندی اس کا ایک ذریعہ بنے گی اور انسانی امداد  میں پیش رفت کیلئے دستاویز تیار کرلی گئیں ہیں۔

یاد رہے کہ روسی صدر  اور اردوان میں یہ ایک سال کے دوران تیسری ملاقات ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے