English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ حکومت: صوبے میں 13 ہزار اسکول بند ہونے کا اعتراف کرلیا

سندھ می 49 ہزار اسکولز ہیں انہیں جادو کے ذریعے تو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا، سعید غنی
عدالت نے تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی، صنم بلوچ کی درخواست پر قائم مقدمے کی سماعت ملتوی کردی گئی
حیدرآباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سندہ ہائی کورٹ میں ٹنڈوالہیار کے 150 اسکولز بند ہونے اور ٹاپ کرنے کے باوجود پی ایس ٹی آرڈر نہ دینے کے درخواستوں پر سماعت، صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری تعلیم عدالت میں پیش، سعید غنی کا 13 ہزار اسکولز بند ہونے کا اعتراف، عدالت نے تین ہفتوں میں عملدرآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔سندھ میں 49 ہزار اسکولز میں سے 13 ہزار بند ہین، 49 ہزار اسکولوں کو جادو کے ذریعے تو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، سعید غنی تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں ٹنڈوالہیار کے رہائشی جھانزیب لغاری کی ضلع میں 150 اسکولز بند ہونے اور لطیف آباد کی صنم بلوچ کی طرف سے پرائمری اسکول ٹیچر کیلئے تحریری امتحان میں ٹاپ کرنے کے باوجود آرڈر دینے والی درخواستوں کی سماعت ہوئی، دونوں درخواست گذارون کی جانب سے ایڈووکیٹ آیت اللہ پیش ہوئے، جبکہ محکمہ تعلیم کے صوبائی وزیر سعید غنی، چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور سیکریٹری تعلیم خالد حیدر شاہ بھی پیش ہوئے، عدالت نے صنم بلوچ کو آرڈر نہ دینے پر نظرثانی کا حکم دیتے ہوئے تین ہفتوں میں دونوں مامرون پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کردی، اس حوالے سے ایڈووکیٹ آیت اللہ نے روزنامہ جرات کو بتایا کہ عدالت نے اسکولز و بھرتیون کے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے، دوسری جانب عدالت میں پیشی ہونے کے بعد ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ صوبے کے 49 ہزار اسکولز میں سے 13 ہزار بند ہین جبکہ 37 ہزار اساتذہ کی کمی ہے، ماضی میں کچھ اسکول غلط منصوبابندی سے بنائے گئے جو بند ہین، سعید غنی نے کہا کہ اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیون کا سلسلہ شروع کردیا ہے اسکولز کے نظام کو بھی بھتر بنا رہے ہین، 49 ہزار اسکول جادو کے ذریعے ٹھیک نہیں کئے جاسکتے جن اسکولز میں انرولمینٹ زیادہ ہے انہیں پہلے ٹھیک کیا جائیگا، تعلیم کے شعبے میں ترقی کیلئے کئے منصوبے جاری ہین، سعید غنی نے کہا کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے حفاظتی اقدامات کے تحت تعلیمی ادارے بند کئے گئے ہیں ایک اندازے کے مطابق 13 ہزار زائرین ایران سے آئے ہین، جن میں اکثریت سندھ میں آئی ہے. سوشل میڈیا پر غلط خبرین چلائی جا رہی ہین، حکومت درست معلومات فراہم کر رہی ہے اور عوام سے کچھ بھی نہیں چھپایا جا رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے