English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سی اے اے مخالف مظاہرے میں خاتون کی موت

القمر

اترپردیس کے دارالحکومت لکھنو کے گھنٹہ گھر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مسلسل 52 دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ احتجاج کے دوران بارش میں بھیگنے کی وجہ سے فریدہ نامی خاتون کی موت ہوگئی۔
لکھنو میں بے موسم بارش اور ژالہ باری نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ ریاست کے دارالحکومت لکھنو کے گھنٹہ گھر علاقہ میں نیشنل پاپولیشن رجسٹر، نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ اور شہریت (ترمیمی)قانون 2019 کے خلاف احتجاج کر نے والی خواتین کو بھی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔
گھنٹہ گھر میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف دھرنے پر خواتین کھلے آسمان کے نیچے بیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ ضلع انتظامیہ نے کسی طرح کا شامیانہ، ٹینٹ لگانے سے منع کردیا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق دارالحکومت لکھنو میں جمعہ کے روز سے اچانک موسم نے کروٹ لی اور بھاری بارش کے ساتھ اولے بھی گرے، جس کی وجہ سے احتجاج میں شامل خواتین کو بڑی پریشانیوں سے گزرنا پڑا لیکن پھر بھی ضلع انتظامیہ کا دل نہیں پسیجا اور انہیں شامیانہ لگانے کی اجازت نہیں ملی۔
اس دوران ایک خاتون جن کا نام فریدہ ہے، ان کی بارش میں بھیگنے کی وجہ سے اچانک طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور علاج کے دوران ان کی گذشتہ رات موت ہو گئی۔ فریدہ کی عمر 50 سے 55 سال کے درمیان بتائی جارہی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق شاکر علی نے بات کے دوران بتایا کہ فریدہ لگاتار گھنٹہ گھر احتجاج میں شامل ہوتی رہیں۔ وہ پہلے سے بیمار نہیں تھی لیکن اچانک بارش میں بھیگنے کی وجہ سے وہ سخت بیمار ہوگئی اور انہیں ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا، اس دوران آج ان کی موت ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے وہاں شامیانہ لگوانے کی اجازت نہیں دی، جس کی وجہ سے فریدہ کی موت ہوئی ہے۔
شاکر علی نے حکومت سے اپیل کی ہے وہ ‘اس کالے قانون کو واپس لے کیونکہ یہ بہت ہی خطرناک ثابت ہو رہا ہے’۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سے پہلے بھی ایک بی اے کی طالبہ طیبہ کی بھی بارش میں بھیگنے سے موت ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود لکھنوکی ضلع انتظامیہ نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے